Saturday, June 7, 2014

کامل تحقیق کے ساتھ ملامت کے احکام۔



سیدنا داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے ایک مشکل درپیش آئی میں نے اُس مشکل سے خلاصی پانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔اس سے قبل بھی مجھ پر ایسی ہی مشکل پڑی تھی تو میں نے حضرت شیخ بایزید رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی تھی اور میری وہ مشکل آسان ہوگئی تھی۔اِس مرتبہ بھی میں نے ارادہ کیا کہ وہاں حاضری دوں بالاُخر تین ماہ تک مزار مبارک پر چلہ کشی کی تا کہ میری یہ مشکل حل ہو جائے ۔ہر روز تین مرتبہ غسل اور تیس مرتبہ وضو کرتا۔اِس اُمید پر کہ مشکل آسان ہو مگر مشکل دور نہ ہوئی تو خراسان کے سفر کا اِرادہ کیا۔

ایک رات ایک گاوں میں پہنچا وہاں ایک خانقاہ تھی۔جس میں صوفیوں کی ایک جماعت فروکش تھی۔میرے جسم پر کھردری اور سخت قسم کی گدڑی تھی ۔مسافروں کی مانند میرے ساتھ کچھ سامان نہ تھا۔صرف ایک لاٹھی اور لوٹا تھا۔اُس جماعت نے مجھے حقارت کی نظر سے دیکھا اور کسی نے مجھے نہ پہچانا۔وہ اپنے رسم و رواج کے مطابق باہم گفتگو کرتے اور کہتے کہ یہ ہم میں سے نہیں ہے۔اور یہ درست بھی تھا کہ میں اُن میں سے نہیں تھا ۔لیکن چونکہ مجھے وہاں رات گزارنی ضروری تھی گنجائیش نہ ہونے کے باوجود میں ٹہر گیا۔اُنہوں نے مجھے دریچہ میں بٹھا دیا اور وہ لوگ اُس سے اُونچی والی چھت پر چلے گئے۔میں زمین پر رہا۔اُنہوں نے میرے آگے ایک سوکھی اور پھپھوندی لگی ہوئی روٹی ڈال دی ۔ میں اُن خوشبوں کو سونگھ رہا تھا جو وہ لوگ خود کھا رہے تھے۔وہ لوگ مجھ پر برابر آوازیں کستے رہے تھے۔جب وہ کھانے سے فارغ ہوئے تو خربوزے کھانے لگے اور دل لگی سے اُس کے چھلکے میرے سر پر پھینک کر میری تحقیر و توہین کرتے رہے اور میں اپنے دل میں کہہ رہا تھا کہ خداوندا۔۔۔اگر میں تیرے محبوبوں کا لباس پہننے والوں میں سے نہ ہوتا تو اِن لوگوں سے کنارہ کش ہو جاتا۔پھر جتنی بھی مجھ پر اُن کی طعن و تشنیع زیادہ ہوتی رہی میرا دل مسررور ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ اُس واقعہ کا بوجھ اُٹھانے سے میری مشکل حل ہو گئی ۔ اُس وقت مجھ پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ مشایخ کرام جاہل لوگوں کو اپنے ساتھ کیوں گوارہ کرتے ہیں اور کیوں اُن کی سختیاں جھیلتے ہیں۔یہ ہیں کامل تحقیق کے ساتھ ملامت کے احکام۔

#کشف المحجوب

No comments:

Post a Comment