حضرت محمد عمر بن احمد مقری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں
''حق تعالی کے ساتھ احوال کی استقامت کا نام تصوف ہے ''
مطلب یہ ہے کہ صوفی کے احوال کسی اور حال سے نہ بدلیں گے ۔اور وہ کسی کجروی میں مبتلا نہ ہو گا۔ اس لئے کہ جس کا دل گردشِ احوال سے محفوظ ہے وہ درجہِ استقامت سے نہیں گرتا اور نہ وہ حق تعالی سے دور رہتا ہے
No comments:
Post a Comment