Saturday, June 7, 2014

اوتاد ، باب عمر



فرغانہ میں ایک گاوں سلانگ نامی ہے ۔وہاں ایک بزرگ زمین کے اوتاد میں سے تھے،جنہیں لوگ باب عمر کہتے تھے۔چونکہ اُس شہر کے تمام مشایخ سب سے بڑے بزرگ کو باب کہا کرتے تھے۔اُن کے یہاں فاطمہ نامی ایک بوڑھی عورت تھی۔میں نے اُن کی زیارت کا ارادہ کیا۔
جب اُن کے روبرو پہنچا تو اُنہوں نے پوچھا کس لئے آئے ہو؟
میں نے عرض کی آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہوا ہوں۔
شیخ نے شفقت و مہربانی سے میری طرف دیکھا اور فرمایا اے فرزند ! میں فلاں روز سے برابر تمہیں دیکھ رہا ہوں اور جب تک تم مجھ سے روپوش نہ ہوجاو گے میں تم کو برابر دیکھتا رہوں گا۔
جب میں نے اُن کے بتائے ہوئے دن پر غور کیا تو وہی دن اور سال تھا جو میری توبہ اور بیعت کا ابتدائی دن تھا۔
پھر فرمایا اے فرزند ! مسافت طے کرنا بچو کا کام ہے لہٰذا اِس ملاقات کے بعد ہمت کرو کہ حضور قلب حاصل ہو۔اس سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔اُس کے بعد فرمایا اے فاطمہ! جو ہو لے آو تا کہ اس درویش کی کچھ خاطر کی جا سکے۔وہ ایک طباق میں تازہ انگور لائی حالانکہ وہ موسم انگوروں کا نہ تھا۔اُس طباق میں کچھ تازہ کھجوریں بھی تھیں حالانکہ فرغانہ میں کھجوریں ہوتی ہی نہ تھیں۔

#کشف المحجوب

No comments:

Post a Comment