Saturday, June 7, 2014

نسبت



یعنی تم دو نسبتوں کے درمیان ہو۔ ایک نسبت حضرت آدم علیہ سلام کی طرف ہے دوسری نسبت حق تعالی کی طرف ہے۔
جب تم آدم کی طرف منسوب ہوتے ہو تو شہوت کے میدانوں میں اور آفت کی غلط جگہوں اور مقامات میں داخل ہو جاتے ہو ۔یہی وہ نسبت ہے جس سے تمہارا بشر ہونا ثابت ہے۔اِسی نسبت کے لحاظ سے اللہ تعالی نے فرمایا ''ابنِ آدم بڑا جفا کار اور نا عاقبت اندیش واقع ہوا ہے''

جب تم اپنی نسبت حق تعالی سے قائم کرتے ہو تو تم کشف و براہین اور عصمت و ولایت کے مقامات میں داخل ہو جاتے ہو۔
یہی وہ نسبت ہے جس سے حق تعالی کی بندگی کا ثبوت ملتا ہے۔اِسی نسبت کے اعتبار سے حق تعالی نے فرمایا ''رحمٰن کے بندے زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں''

حضرت ابو القاسم ابراہیم بن محمد بن محمود نصر آبادی رحمتہ اللہ
#کشف المحجوب

No comments:

Post a Comment