Friday, June 27, 2014

تم سے پہلے ایک شخص گزرا ہے جس کی کوئی نیکی توحید کے سوا نہ تھی۔اُس نے اپنے گھر والوں سے کہا جب میں مر جاوں تو مجھے جلا دینا۔پھر خاکستر کو خوب باریک کر کے تیز ہوا کے دن آدھا خشکی میں اور آدھا دریا میں بہا دینا۔گھر والوں نے ایسا ہی کیا۔اللہ تعالی نے ہوا اور پانی سے فرمایا جو تم نے پھیلایا ہے اُن کو اکٹھا کرو اور میرے حضور لاو۔جب خدا کے حضور وپ پیش ہوا تو حق تعالی نے اُس سے فرمایا تجھے کس چیز نے اپنے ساتھ ایسا سلوک کرنے پر آمادہ کیا۔
اُس نے عرض کیا خدایا مجھے تیری حیا دامنگیر تھی۔اسی لئے میں نے اپنی جان پر ایسا ظلم کیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالی نے اُسے بخش دیا


حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
مسلم ، بخاری

اللہ کی پہچان

حضرت ابع بکر واسطی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ

''جس نے اللہ کو پہچان لیا وہ ہر ایک سے نہ صرف جدا ہوگیا بلکہ گونگا اور دل برداشتہ بھی ہو گیا ''

مطلب یہ کہ جس نے اُسے پہچان لیا اُس نے دل سے تمام اغیار کو نکال دیا اور اس کی تعبیر میں گونگا بن کر اپنے اوصاف سے فانی ہو گیا۔

عارف کی صفت

 حضرت محمد بن واسع رحمتہ اللہ علیہ معرفت  کی صفت میں بیان فرماتے ہیں۔

''جسے اللہ تعالی کی معرفت حاصل ہوگئی وہ بات کم کرے گا اور اُس کی حیرت دائمی ہو گی''

کیونکہ الفاظ کا جامہ اُسے پہنایا جا سکتا ہے جو تحتِ عبارت ہو اور اصول میں عبارت کی ایک حد ہے اور معبر چونکہ محدود نہیں ہے تو عبارت کی بنیاد اس پر کیسے رکھی جا سکتی ہے ؟
جب عبارت کی ایک حد ہے اور معبر یعنی اللہ تعالی غیر محدود ہے تو اُسے عبارت کی حد بندی میں کیسے لایا جا سکتا ہے۔اور جب مقصود عبارت میں نا سما سکے اور بندہ اس میں عاجز و لاچار رہ جائے تو بجز دائمی حیرت کے کیا چارہ کار ہوتا ہے۔

#کشف المحجوب

Saturday, June 21, 2014

حضور حق کی جانب بہترین اشار



حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھ پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ تمام زمین و آسمان والے میری پریشانی پر روتے تھے، پھر ایسا زمانی بھی آیا کہ میں اُن کی غیبت پر روتا تھا۔اب ایسا زمانہ آ گیا ہے کہ مجھے نہ اپنی خبر ہے اور نہ زمین و آسمان کی۔

#کشف المحجوب

بایزید کون ؟


حضرت ذولنون مصری رحمتہ اللیہ علیہ کا ایک مرید حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ کی زیارت کے ارادے سے گیا۔دروازہ پر پہنچ کر اُس نے دستک دی۔
حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا کون ہے ؟ کیا چاہتے ہو ؟
جواب دیا کہ حضرت بایزید کی زیارت کو آیا ہوں۔
پوچھا بایزید کون ؟ کہاں ہے اور وہ کیا ہے ؟ میں مدت سے بایزید کو تلاش کر رہا ہوں مگر وہ نہیں ملتا۔
جب مرید نے واپس آ کر حضرت ذولنون مصری رحمتہ اللہ علیہ سے یہ حال بیان کیا تو اُنہوں نے فرمایا؛ '' میرا بھائی بایزید بسطامی تو خدا کی طرف جانے والوں میں جا ملا ''

#کشف المحجوب

حاضر




جو شخص اپنے سے غائب ہوگیا يقيناً وہ بارگاہِ حق میں حاضر ہو گیا۔۔۔

#کشف المحجوب

سب سے بڑا حجاب

راہِ حق میں سب سے بڑا حجاب تو خود ہے۔جب تو نے اپنے آپ کو غائب کر لیا تو تجھ سے تیرئ ہستی کو برقرار و ثابت رکھنے والی تمام آفتیں فنا ہو جاتی ہیں۔اور زمانہ کے قائدے بدل جاتے ہیں۔


#کشف المحجوب

فنا ، بقا

اگر کوئی فنا سے یہ مراد لے کہ بقا کا اس سے کوئی تعلق نہیں تو یہ جائز ہے اور اگر بقا سے یہ مراد لے کہ فنا کا اس سے کوئی تعلق نہین تو یہ بھی جائز ہے کیونکہ اُس کی مراد فنا سے غیر کے ذکر کی فنا ہے اور بقا سے حق تعالی کے ذکر کی بقا ہے

فرشتوں کی نخوت

جب فرشتوں کی نخوت حد سے بڑھ گئی اور ہر ایک نے اپنے معاملہ کی صفائی کو دلیل بنا کر بنی آدم کے بارے میں زبانِ ملامت دراز کی تو حق تعالی نے چاہا کہ اُن کا حال اُن پر ظاہر فرمائے۔چنانچہ فرمایا کہ اے فرشتو ! اپنے میں سے تین ایسے بزرگ افراد کو منتخب کر لو جن پر تمہیں اعتماد ہو۔وہ زمین پر جا کر زمین کے خلیفہ ہو جائیں اور مخلوقِ خدا کو راہِ راست پر لائیں اور بنی آدم میں عدل و انصاف قائم کریں۔
فرشتوں نے تین فرشتے  چُن لئے اُن میں سے ایک تو زمین پر آنے سے پہلے ہی زمین کی آفتوں کو دیکھ کر پناہ مانگ گیا۔چنانچہ اللہ تعالی نے اُس فرشتہ کو روک لیا اور باقی دو فرشتے زمین پر آئے۔ اللہ تعالی نے اُن دونوں کی سرشت اور خِلقت کو بدل دیا تا کہ کھانے پینے کے خواہشمند ہو کر شہوت کی طرف مائل ہوں۔یہاں تک کہ اُس پر اُنہیں مستوجب سزا بنا یا۔اِس طرح فرشتوں نے بنی آدم کی فضیلت کا اندازی کر لیا۔

#کشف المحجوب

Saturday, June 7, 2014

انبیاء علیہم السلام کے احوال کی بابت



حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا انبیاء علیہم السلام کے احوال کی بابت کچھ فرمائیے؟
اُنہوں نے فرمایا افسوس کہ ہمیں اُن کے بارے میں کوئی اختیار نہیں۔جو کچھ بھی ہم اُن کے بارے میں کہیں گے وہ سب ہم ہی ہم ہونگے۔اللہ تعالی نے انبیاء علیہم السلام کے نفی اثبات کو اس درجہ میں رکھا ہے کہ وہاں تک مخلوق کی نظر نہیں پہنچ سکتی۔جس طرح اولیاء کے مرتبہ کے ادراک سے عام لوگ عاجز ہیں کیونکہ ان کا ادراک نہاں ہے اِسی طرح اولیاء بھی انبیاء کے مرتبہ کے ادراک سے عاجز ہیں۔کیونکہ اُن کا ادراک اُن سے پوشیدہ ہے۔

#کشف المحجوب

اوتاد ، باب عمر



فرغانہ میں ایک گاوں سلانگ نامی ہے ۔وہاں ایک بزرگ زمین کے اوتاد میں سے تھے،جنہیں لوگ باب عمر کہتے تھے۔چونکہ اُس شہر کے تمام مشایخ سب سے بڑے بزرگ کو باب کہا کرتے تھے۔اُن کے یہاں فاطمہ نامی ایک بوڑھی عورت تھی۔میں نے اُن کی زیارت کا ارادہ کیا۔
جب اُن کے روبرو پہنچا تو اُنہوں نے پوچھا کس لئے آئے ہو؟
میں نے عرض کی آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہوا ہوں۔
شیخ نے شفقت و مہربانی سے میری طرف دیکھا اور فرمایا اے فرزند ! میں فلاں روز سے برابر تمہیں دیکھ رہا ہوں اور جب تک تم مجھ سے روپوش نہ ہوجاو گے میں تم کو برابر دیکھتا رہوں گا۔
جب میں نے اُن کے بتائے ہوئے دن پر غور کیا تو وہی دن اور سال تھا جو میری توبہ اور بیعت کا ابتدائی دن تھا۔
پھر فرمایا اے فرزند ! مسافت طے کرنا بچو کا کام ہے لہٰذا اِس ملاقات کے بعد ہمت کرو کہ حضور قلب حاصل ہو۔اس سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔اُس کے بعد فرمایا اے فاطمہ! جو ہو لے آو تا کہ اس درویش کی کچھ خاطر کی جا سکے۔وہ ایک طباق میں تازہ انگور لائی حالانکہ وہ موسم انگوروں کا نہ تھا۔اُس طباق میں کچھ تازہ کھجوریں بھی تھیں حالانکہ فرغانہ میں کھجوریں ہوتی ہی نہ تھیں۔

#کشف المحجوب

ظاہری درستگی اور باطن کی درستگی



حضرت ابراہیم رقی رحمتہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں ابتدائے احوال میں مسلم مغربی کی زیارت کرنے گیا۔جب میں مسجد میں داخل ہوا تو وہ نماز کی امامت کر رہے تھے اور قراَت میں الحمد غلط پڑھ رہے تھے ۔میں نے دل میں خیال کیا کہ میری محنت ضائع گئی۔
اُس رات میں وہیں رہا دوسرے دن طہارت کے وقت اُٹھا تا کہ نہر فرات کے کنارے جا کر وضو کر لوں۔ راستے میں ایک شیر سوتا دکھائی دیا۔میں واپس آنے لگا ۔اِتنے میں ایک شیر چیختا ہوا میرے عقب میں آگیا۔میں مجبور ہو کر رک گیا۔اُس وقت حضرت مسلم مغربی اپنے حجرے سے باپر تشریف لائے۔جب شیروں نے اُنہیں دیکھا تو سر جھکا کر کھڑے ہو گئے۔اُنہوں نے دونوں کے کان پکڑ کر سرزنش کی اور فرمایا ! اے خدا کے کتو میں نے تم سے نہیں کہا ہے کہ میرے مہمانوں کو پریشان نہ کیا کرو۔
اور میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا اے ابو الحسن !تم لوگوں کی ظاہری درستگی کے درپے ہو اور حال یہ ہے کہ مخلوق خدا سے ڈرتے ہو۔اور میں حق تعالی سے ڈرتا ہوں اور باطن کی درستگی کے درپے ہوں۔مخلوق خدا ہم سے ڈرتی ہے۔

#کشف المحجوب

ایک چرواہا اور حضرت ابراہیم بن ادھم رحمتہ اللہ



حضرت ابراہیم بن ادھم رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک چرواہے کے پاس سے گزرا اور اُس سے پانی مانگا۔اُس نے کہا میرے پاس دودھ ہے پانی کیوں مانگتے ہو؟
میں نے کہا مجھے پانی ہی چاہئے ۔
وہ اُٹھا اور ایک لکڑی کو پتھر پر مارا ۔اُس پتھر سے صاف و شیریں پانی جاری ہو گیا۔ اُس کو دیکھ کر میں حیران ہوگیا۔
اُس نے مجھ سے کہا حیرت و تعجب نہ کرو جب بندہ حق تعالی کا فرمانبردار ہو جاتا ہے تو سارا جہان اُس کے حکم کے تابع ہو جاتا ہے۔

#کشف المحجوب

ایک حبشی عابد



حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک حبشی عابد ویرانوں میں رہا کرتا تھا۔ ایک دن میں بازار سے کچھ خرید کر اُس کے پاس لے گیا۔اُس نے پوچھا کیا چیز ہے؟
میں نے کہا کہ کچھ کھانے کی چیزیں ہیں اس خیال سے لایا ہوں کہ شاید تمہیں حاجت ہو۔
وہ میری طرف دیکھ کر ہنسا اور ہاتھ کا اشارہ کیا۔
میں نے دیکھا کہ اُس ویران مکان کے تمام اینٹ پتھر سونے کے بن گئے ہیں میں اپنے کئے پر شرمندہ ہوا اور جو لے گیا تھا اُسے چھوڑ کر عابد کے رعب سے بھاگ کھڑا ہوا۔

#کشف المحجوب

دل



دل حق تعالیٰ کی معرفت کی جگہ ہے وہ اس کعبے سے بہتر ہے جو خدمت و عبادت کا قبلہ ہے۔
کعبہ وہ ہے جس کی طرف بندے کی نظر ہے
اور دل وہ ہے جس کی طرف حق تعالیٰ خود نظر فرماتا ہے۔

حضرت سید علی مخدوم ہجویری داتا گنج بخش کی کتاب "کشف المحجُوب"

شریعت کی پاسداری:




حضرت با یزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے مجھے بتایا کہ فلاں شہر میں اللہ کا ولی رہتا ہے۔ میں اُٹھا اور اُس کی زیارت کی غرض سے سفر شروع کر دیا۔جب میں اُس کی مسجد کے پاس پہنچا تو وہ مسجد سے نکل رہا تھا میں نے دیکھا کہ منہ کا تھوک فرشِ مسجد پر گر رہا ہے۔میں وہیں سے واپس لوٹ پڑا اور اُسے سلام تک نہ کیا۔میں نے کہا کہ ولی کے لئے شریعت کی پاسداری ضروری ہے تا کہ حق تعالی اس کی ولایت کی حفاظت فرمائے،اگر یہ شخص ولی ہوتا تو اپنے منہ کے تھوک سے مسجد کی زمین کو آلودہ نہ کرتا اِس کا احترام کرتا۔
اُسی رات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے خواب میں دیکھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے با یزید ! جو کام تم نے کیا ہے اِس کی برکتیں تم ضرور پاو گے۔دوسرے دن ہی میں اِس درجے پر فائز ہو گیا جہاں آج تم سب مجھے دیکھ رہے ہو۔۔

#کشف المحجوب

ولی



حضرت با یزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا ولی کون ہوتا ہے ؟

آپ نے فرمایا ''ولی وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالی کے امر و نہی کے تحت صبر کرے ''

کیونکہ جس کے دل میں محبت زیادہ ہوگی اُتنی ہی وہ اُس کے حکم کی دل سے تعظیم کرے گا۔اور اُس کی مخالفت سے دور رہے گا۔

#کشف المحجوب

ولی



حضرت ابراہیم بن ادہم رحمتہ اللہ علیہ نے ایک شخص سے پوچھا کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کے ولی ہو جاو ؟ اُس نے کہا خواہش تو ہے۔

آپ رحمتہ اللہ نے فرمایا کہ ''اے عزیز ! دنیا و آخرت کی کسی چیز سے رغبت نہ رکھو کیونکہ دنیا کی طرف راغب ہونا حق تعالی کی طرف سے منہ موڑ کر فانی چیز کی طرف متوجہ ہونا ہے۔۔

#کشف المحجوب

اولیاء کی اقسام




جو اولیاء حق تعالی کی بارگاہ کے لشکری اور مشکلات کو حل کرنے والے اور حل شدہ کو بند کرنے والے ہیں۔اِن کی تعداد 300 ہے۔ اِن کو اخیار کہا جاتا ہے۔اور 40 وہ ہیں جن کو ابدال ،اور 7 وہ ہیں جن کو ابرار، اور 4 وہ ہیں جن کو اوتاد اور 3 وہ ہیں جن کو نقباء اور 1 وہ ہے جسے قطب اور غوث کہا جاتا ہے۔
یہ اولیاء وہ ہیں جنہیں ایک دوسرے پہچانتے ہیں۔ اور امور و معاملات میں ایک دوسرے کی اجازت کے محتاج ہوتے ہیں۔

#کشف المحجوب

براہیں نبوت کو



اللہ تعالی نے براہیں نبوت کو آج تک باقی رکھا ہے اور اولیاء کو اِس کے اِظہار کا سبب بنایا ہے۔ تا کہ آیاتِ حق ، اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے دلایل ہمیشہ ظاہر ہوتے رہیں۔ اللہ تعالی نے اولیاء کو جہان کا والی بنایا ہے، یہاں تک کہ وہ خالص سنت ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہو کر رہے اور نفس کی پیروی کی راہوں کو چھوڑ دیا۔ آسمان سے رحمتوں کی بارش اِنہی کے قدموں کی برکت سے ہوتی ہے اور زمین میں جو کچھ اُگتا ہے وہ اِنہی کی برکت اور اِن کے احوال کی صفائی کی بدولت پیدا ہوتا ہے۔کافروں پر مسلمانوں کی فتح یابی اِنہی کے اِرادے سے ہے۔

#کشف المحجوب

اولیاء اللہ



حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

'' بلاشبہ بندگانِ خدا میں سے کچھ بندے ایسے ہیں جن پر انبیاء و شہداء غبطہ (رشک) کرتے ہیں ''

صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ ! ہمیں اُن کی پہچان بتایئے تا کہ ہم اُن سے محبت قائم رکھیں۔ 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا '' یہ وہ لوگ ہیں جو مال و محنت کے بغیر صرف ذاتِ الہٰی سے محبت رکھتے ہیں۔ان کے چہرے نور کے مناروں پر روشن و تاباں ہیں۔لوگوں کے خوف کے وقت یہ بے خوف اور اُن کے غموں کے وقت بے غم ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔

أَلاَ إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّهِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ

خبردار! بیشک اولیاء اللہ پر نہ کوئی خوف ہے اورنہ وہ رنجیدہ و غمگین ہوں گے

بندگانِ خدا



بکثرت بندگانِ خدا پریشان حال، غبار آلود بال بکھرے ، کپڑے پھٹے ، ایسے ہیں جن کی لوگ پرواہ نہیں کرتے۔اگر وہ کسی معاملہ میں اللہ کی قسم کھا ئیں تو اللہ اُن کی قسموں کو ضرور پورا کرتا ہے۔

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
#کشف المحجوب

تقدیر کی مثال




حضرت شبلی رحمتہ اللہ علیہ جب بیمار ہوئے تو ایک طبیب اُن کے پاس آیا اور اُس نے مشورہ دیا کہ پرہیز کیا جائے۔
آپ نے فرمایا کس چیز سے پرہیز کیا کروں ؟ کیا اپس سے جو میری روزی ہے یا اُس سے جو میری روزی نہیں ہے ؟
اگر پرہیز روزی سے متعلق ہے تو یہ ممکن نہیں،اگر اس کے سوا کچھ اور ہے تو وہ اللہ تعالی مجھے دیتا ہی نہیں۔

#کشف المحجوب

شیطان



حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

'' کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس پر اُس کا شیطان غالب نہ آتا ہو بجز حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے، کہ وہ اپنے شیطان پر غالب آگئے ہیں ''

#کشف المحجوب

نعمت



نعمت تو اُس وقت نعمت کہلاتی ہے جبکہ وہ نعمت دینے والے کی طرف رہنمائی کرے۔ لیکن جب وہ اُسے منعم سے محجوب کر دے تو ایسی نعمت سراپا آفت و بلا ہوتی ہے۔

#کشف المحجوب

نسبت



یعنی تم دو نسبتوں کے درمیان ہو۔ ایک نسبت حضرت آدم علیہ سلام کی طرف ہے دوسری نسبت حق تعالی کی طرف ہے۔
جب تم آدم کی طرف منسوب ہوتے ہو تو شہوت کے میدانوں میں اور آفت کی غلط جگہوں اور مقامات میں داخل ہو جاتے ہو ۔یہی وہ نسبت ہے جس سے تمہارا بشر ہونا ثابت ہے۔اِسی نسبت کے لحاظ سے اللہ تعالی نے فرمایا ''ابنِ آدم بڑا جفا کار اور نا عاقبت اندیش واقع ہوا ہے''

جب تم اپنی نسبت حق تعالی سے قائم کرتے ہو تو تم کشف و براہین اور عصمت و ولایت کے مقامات میں داخل ہو جاتے ہو۔
یہی وہ نسبت ہے جس سے حق تعالی کی بندگی کا ثبوت ملتا ہے۔اِسی نسبت کے اعتبار سے حق تعالی نے فرمایا ''رحمٰن کے بندے زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں''

حضرت ابو القاسم ابراہیم بن محمد بن محمود نصر آبادی رحمتہ اللہ
#کشف المحجوب

متوکل



''متوکل وہ ہے کہ اُس کے دل میں وجود اور عدم برابر ہوں''

مطلب یہ ہے کہ رزق پانے سے دل خوش نہ ہو اور اُس کے نہ ہونے سے دل غمگین نہ ہو۔
اِس لئے کہ جسم مالک کاملک ہے اس کی پرورش اور اُس کی ہلاکت دونوں مالک ہی کے قبضہ میں ہیں۔اور وہ اپنے ملک کو تم سے زیادہ جانتا ہے۔وہ جیسا چاہے رکھے تم اِس میں دخل نہ دو۔ ملکیت کو 
مالک کے حوالے کر کے اِس سے لا تعلق ہو جاو۔

حضرت ابو محمد جعفر بن نصیر خالدی رحمتہ اللہ
#کشف المحجوب

حضرت شبلی رحمتہ اللہ علیہ اور حلاج،



میں اور حلاج دونوں ایک ہی راہ کے راہی ہیں، مجھے میری وارفتگی نے نجات دی اور اُن کو اِن کی عقل نے خراب کر دیا۔۔۔

حضرت شبلی رحمتہ اللہ علیہ
#کشف المحجوب

طبیعت کی مرغوبات



طبیعت کی مرغوبات سے چین و راحت پانے والا شخص درجات حقائق سے محروم رہ جاتا ہے۔

حضرت ابو العباس احمد بن محمد بن سہل آملی رحمتہ اللہ

#کشف المحجوب

خوشی و مسرت



یعنی خوشی و مسرت خدا کے سوا کسی اور سے ہے تو اُس کی یہ خوشی دائمی غم کا وارث بناتی ہے اور جس کا لگاو خدا کی خدمت و عبادت سے نہ ہو تو اُس کا یہ لگاو دائمی وحشت کا ورثہ دیتا ہے.

اِس لئے کہ خدا کے سوا ہر چیز فانی ہے اور جس کی خوشی فانی چیز سے ہوگی تو جب وہ چیز فنا ہو جائے گی تو اُس کے لئے بجز حسرت و غم کے کچھ نہ رہے گا۔اور غیر خدا کی خدمت حقیر شے ہے، جس وقت اشیاء مخلوق کی دنائت اور خواری ظاہر ہو گی تو اُس کے لئے اُس سے انس و محبت رکھنا موجبِ وحشت و پریشانی ہو گا۔۔

حضرت ابو العباس احمد بن مسروق رحمتہ اللہ
#کشف المحجوب

نفس



میں اُس شخص پر تعجب کرتا ہوں جو جنگل و صحرا اور بیابانوں کو طے کرتا ہوا خدا کے گھر اور حرم تک تو پہنچتا ہے کیونکہ اُس میں اُس کے نبیوں کے آثار ہیں ، لیکن وہ اپنے نفس کے جنگل اور خواہشات کی وادیوں کے طے کر کے اپنے دل تک پہنچنے کی کوشش کیوں نہیں کرتا کیونکہ دل میں تو اُس کے مولٰی کے آثار ہیں۔

حضرت محمد بن فضل بلخی رحمتہ اللہ علیہ

#کشف المحجوب

عارف



لوگوں میں سب سے زیادہ عارف وہ ہے جو ادائے شریعت میں کوشاں اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا سب سے زیادہ خواہاں ہے۔

حضرت محمد بن فضل بلخی رحمتہ اللہ

#کشف المحجوب —

وجد



مردانِ خدا کے وجد کی کیفیت عبارت سے ادا نہیں کی جا سکتی کیونکہ وہ حق کا بھید ہے جو مومنوں کے لئے ہے۔۔۔

حضرت عمرو بن عثمان مکی رحمتہ اللہ 

#کشف المحجوب

نفس کی پیروی



اللہ تعالی نے دلوں کو ذکر کا مقام بنایا ہے پھر جب وہ نفس کی پیروی کرتے ہیں تو خواہشات کی جگہ بن جاتی ہے۔شہوتوں سے دلوں کی پاکیزگی یا تو بے قرار کرنے والے خوف سے ہوتی ہے یا بے آرام کرنے والے شوق سے۔

حضرت ابو عبداللہ بن خفیف رحمتہ اللہ علیہ

#کشف المحجوب

ذکر



وہ ذات پاک ہے جس نے عارفوں کے دلوں کو ذکر کی جگہ اور زاہدوں کے دلوں کو توکل کی جگہ اور توکل کرنے والوں کے دلوں کو رضا کی جگہ اور درویشوں کے دلوں کو قناعت کی جگہ اور دنیا داروں کے دلوں کو حرص کی جگہ قرار دیا ہے۔

حضرت منصور بن عمار رحمتہ اللہ علیہ

#کشف المحجوب

شیطان کو دیکھنے کی خواہش


حضرت جنید بغدادی رحمتہ الله علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے دل میں شیطان کو دیکھنے کی خواہش پیدا ہو ئی - ایک روز مسجد کے باہر کے دروازے پر کھڑا تھا کہ دور سے ایک بوڑھا آتا ہوا نظر پڑا - جب میں نے اس کی صورت دیکھی تو مجھ پر شدید نفرت کا غلبہ ہوا - جب وہ میرے قریب آیا تو میں نے کہا اے بوڑھے تو کون ہے ؟ کہ تیری مہیب شکل کو میری آنکھیں دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتیں اور تیری موجودگی سے میرے دل کو سخت وحشت ہو رہی ہے ؟ اس نے کہا میں وہی ابلیس ہوں جس کے دکلھنے کو تم نے تمنا کی تھی -
میں نے کہا او ملعون ! حضرت آدم علیہ سلام کو سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے باز رکھا ؟
شیطان نے کہا اے جنید تمہارا کیا خیال ہے کیا میں غیر خدا کو سجدہ کر لیتا ؟ 

حضرت جنید فرماتے ہیں کہ ابلیس کی یہ بات سن کر میں ہکا بکا اور ششدر رہ گیا اور مجھے کوئی جواب نہ بن پڑا - اتنے میں غائب سے ندا آئی 
’’اے جنید اس ملعون سے کہو تو جھوٹا ہے ! اگر تو فرمانبردار ہوتا تو تُو اس کے حکم سے کیوں انکار کرتا“ 

شیطان نے میرے دل کے اندر سے یہ آواز سنی تو وہ چیخا اور کہنے لگا کہ خدا کی قسم تم نے مجھے جلا دیا - پھر اچانک وہ غائب ہو گیا -

#کشف المحجوب


آئمہ طریقت میں سے ایک بزرگ ' حضرت مالک بن دینار رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ ہیں – 
آپ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے مصاحب و مرید ہیں – طریقت میں آپ کا بلند مقام ہے – آپ کے والد کا نام دینار تھا جو کہ غلام تھے آپ غلامی کی حالت میں پیدا ہوے تھے – آپ کی توبہ کا واقعہ یہ ہے کہ ایک رات آپ ایک جماعت کے ساتھ محفل رقص و سرور میں تھے جب تمام لوگ سو گئے تو اس طنبورہ سے جسے بجایا جا رہا تھا آواز آئی " اے مالک کیا بات ہے توبہ میں دیر کیوں ہے ؟ " آپ نے تمام دوست احباب چھوڑ کر اور حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر سچی توبہ کی اور اپنا حال درست کر کے ثابت قدم رہے۔

اِس کے بعد آپکی شان اِس قدر بلند ہوئی کہ ایک مرتبہ جب آپ کشتی میں سفر کر رہے تھے ایک تاجر کا موتی کشتی میں گم ہو گیا،باوجود یہ کہ آپکو علم تک نہ تھا لیکن تاجر نے آپ پر سرقہ کی تہمت لگائی آپ نے آسمان کی طرف منہ اُٹھایا۔۔۔ اُسی لمحہ دریا کی تمام مچھلیاں منہ میں موتی دبائے سطحِ آب پر اُبھر آئیں۔آپ نے اُن میں سے ایک موتی لے کر اُس تاجر کو دے دیا اور خود دریا میں اُتر گئے اور پانی پر گزر کر کنارے پر پہنچ گئے۔۔۔

#کشف المحجوب

صحبت



بدوں کی صحبت ،نیکوں سے بد گمانی پیدا کرتی ہے۔۔

حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ

#کشف المحجوب

کامل تحقیق کے ساتھ ملامت کے احکام۔



سیدنا داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے ایک مشکل درپیش آئی میں نے اُس مشکل سے خلاصی پانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔اس سے قبل بھی مجھ پر ایسی ہی مشکل پڑی تھی تو میں نے حضرت شیخ بایزید رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی تھی اور میری وہ مشکل آسان ہوگئی تھی۔اِس مرتبہ بھی میں نے ارادہ کیا کہ وہاں حاضری دوں بالاُخر تین ماہ تک مزار مبارک پر چلہ کشی کی تا کہ میری یہ مشکل حل ہو جائے ۔ہر روز تین مرتبہ غسل اور تیس مرتبہ وضو کرتا۔اِس اُمید پر کہ مشکل آسان ہو مگر مشکل دور نہ ہوئی تو خراسان کے سفر کا اِرادہ کیا۔

ایک رات ایک گاوں میں پہنچا وہاں ایک خانقاہ تھی۔جس میں صوفیوں کی ایک جماعت فروکش تھی۔میرے جسم پر کھردری اور سخت قسم کی گدڑی تھی ۔مسافروں کی مانند میرے ساتھ کچھ سامان نہ تھا۔صرف ایک لاٹھی اور لوٹا تھا۔اُس جماعت نے مجھے حقارت کی نظر سے دیکھا اور کسی نے مجھے نہ پہچانا۔وہ اپنے رسم و رواج کے مطابق باہم گفتگو کرتے اور کہتے کہ یہ ہم میں سے نہیں ہے۔اور یہ درست بھی تھا کہ میں اُن میں سے نہیں تھا ۔لیکن چونکہ مجھے وہاں رات گزارنی ضروری تھی گنجائیش نہ ہونے کے باوجود میں ٹہر گیا۔اُنہوں نے مجھے دریچہ میں بٹھا دیا اور وہ لوگ اُس سے اُونچی والی چھت پر چلے گئے۔میں زمین پر رہا۔اُنہوں نے میرے آگے ایک سوکھی اور پھپھوندی لگی ہوئی روٹی ڈال دی ۔ میں اُن خوشبوں کو سونگھ رہا تھا جو وہ لوگ خود کھا رہے تھے۔وہ لوگ مجھ پر برابر آوازیں کستے رہے تھے۔جب وہ کھانے سے فارغ ہوئے تو خربوزے کھانے لگے اور دل لگی سے اُس کے چھلکے میرے سر پر پھینک کر میری تحقیر و توہین کرتے رہے اور میں اپنے دل میں کہہ رہا تھا کہ خداوندا۔۔۔اگر میں تیرے محبوبوں کا لباس پہننے والوں میں سے نہ ہوتا تو اِن لوگوں سے کنارہ کش ہو جاتا۔پھر جتنی بھی مجھ پر اُن کی طعن و تشنیع زیادہ ہوتی رہی میرا دل مسررور ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ اُس واقعہ کا بوجھ اُٹھانے سے میری مشکل حل ہو گئی ۔ اُس وقت مجھ پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ مشایخ کرام جاہل لوگوں کو اپنے ساتھ کیوں گوارہ کرتے ہیں اور کیوں اُن کی سختیاں جھیلتے ہیں۔یہ ہیں کامل تحقیق کے ساتھ ملامت کے احکام۔

#کشف المحجوب

اس رات بھی میں اپنی مراد کو پہنچا

اپنے مقصد میں کامیابی دیکھی ہے ؟

انھوں نے فرمایا ہاں دو مرتبہ -

ایک اس وقت جب میں کشتی میں سوار تھا اور کسی نے مجھے نہیں پہچانا کیونکہ میں پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھا ، اور بال بھی بڑھ گئے تھے - 
ایسی حالت تھی کہ کشتی کے سب سوار میرا مذاق اڑا رہے تھے -

ان میں ایک مسخرہ اتنا جری تھا کہ وہ میرے پاس آکر سر کے بال نوچنے لگا - اور میرا مذاق اڑنے لگا -

اس وقت میں نے اپنی مراد پائی ، اور اس خراب لباس اور شکستہ حالی میں مسرت محسوس ہوئی یہاں تک کہ میری یہ مسرت انتہا کو پہنچی -
کہ وہ مسخرہ اٹھا اور اس نے مجھ پر پیشاب کر دیا -

اور دوسری مرتبہ اس وقت جبکہ میں ایک گاؤں میں تھا اور وہاب شدید بارش ہوئی -
سردی کا موسم تھا گدڑی بھیگ گئی اور ٹھنڈک نے بے حال کر دیا -

میں نے مسجد کی طرف رخ کیا لوگوں نے وہاں ٹھہرنے نہ دیا -

دوسری مسجد کی طرف گیا وہاں بھی امان نہ ملی -

پھر تیسری مسجد کی طرف گیا وہاں بھی یہی سلوک ہوا-

سردی میری قوت برداشت سے باہر ہو گئی -

آخر کار میں حمام کی بھٹی کے آگے گیا اور اپنے دامن کو آگ پر پھیلا دیا -
اس دھوئیں سے میرے کپڑے اور چہرہ سیاہ ہوگیا -

اس رات بھی میں اپنی مراد کو پہنچا۔۔

#کشف المحجوب


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بواسطہ جبرئیل علیہ السلام اللہ تعالی کا ارشاد نقل فرمایا

'' میرے اولیاء میری رحمت کی چادر میں ہوتے ہیں جنہیں میرے ساتھ میرے اولیاء ہی پہچانتے ہیں ''

حدیثِ قدسی

#کشف المحجوب

تصوف سرا سر ادب ہے



حضرت ابو حفص حداد نیشا پوری رحمتہ اللہ علیہ صوفیا کرام کے معاملے کے سلسلے میں فرماتے ہیں 

'' تصوف سرا سر ادب ہے ، ہر وقت ، ہر مقام اور ہر حال کے لئے متعین آداب و احکام ہیں۔ جس نے اِن آداب کی پابندی کو اِن کے اوقات میں لازم رکھا وہ مردانِ خدا کے درجے پر فائز ہو گئے ۔اور جس نے اِن آداب کی پابندی کو ملحوظِ خاطر نہ رکھا اور اِسے رائیگاں کر دیا وہ قربِ حق کے خیال اور قبولِ حق کے گمان سے مرحوم رہ کر مردود بن گیا ''

#کشف المحجوب

تصوف



حضرت محمد عمر بن احمد مقری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں

''حق تعالی کے ساتھ احوال کی استقامت کا نام تصوف ہے ''

مطلب یہ ہے کہ صوفی کے احوال کسی اور حال سے نہ بدلیں گے ۔اور وہ کسی کجروی میں مبتلا نہ ہو گا۔ اس لئے کہ جس کا دل گردشِ احوال سے محفوظ ہے وہ درجہِ استقامت سے نہیں گرتا اور نہ وہ حق تعالی سے دور رہتا ہے

#کشف المحجوب

صوفی



حق و صداقت کی راہ میں اگر تم صوفی بننا چاہو تو جان لو کہ صوفی ہونا حضرت صدیق کی صفت ہے۔

صفائے باطن کے لئے کچھ اصول اور فروع ہیں۔ ایک اصل تو یہ ہے کہ دل کو غیر سے خالی کر ے اور فروع یہ ہے کہ مکر و فریب سے بھرپور دنیا کو دل سے خالی کردے۔

یہ دونوں صفتیں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی ہیں۔اِس لئے آپ طریقت کے رہنماوں کے امام ہیں۔

#کشف المحجوب

سونا اور پتھر



جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ سونا اور پتھر اُن کے نزدیک برابر ہیں یہ بات سکر اور دیدارِ الہٰی میں نا درستی کی علامت ہے ۔اس کے لئے یہ حالت بزرگی کی نہیں ہے۔مردانِ خدا کی بزرگی تو صحیح اور راست پندار میں ہے،اِن کے نزدیک سونا، سونا اور پتھر ،پتھر ہے۔مگر وہ اِس کی آفت سے باخبر ہوتا ہے۔۔۔

کشف المحجوب