Saturday, November 8, 2014


اس دل پر تعجب ہے جو کلام الہٰی سن کر اپنی جگہ قائم رہے اور اس جان ہر حیرانی ہے جو کلام خدا سن کر جسم سے نہ نکلے۔
حضرت حسین بن منصور حلاج رحمتہ اللہ
‫#‏کشف‬ المحجوب

جسم اور دل کی بیک وقت آزمائیش ہوتی ہے۔جو خدا کی طرف سے بندہ مومن کے لئے ہوتی ہے اور امتحان صرف دلِ مومن کی آزمائیش کا نام ہے۔بلا اور آزمائیش مومن کے لئے نعمت ہوتی ہے جس کا ظاہر تکلیف دہ اور اصل میٹھا پھل ہوتا ہے۔
‫#‏کشف‬ المحجوب
سب سے زیادہ مصیبت میں انبیاء ہوتے ہیں ہھر اولیاء پھر وہ لوگ جو ذیادہ بزرگ ہوتے ہیں پھر جو اُن کی طرح بزرگ ہوں۔
حدیث نبوی بخاری شریف
‫#‏کشف‬ المحجوب

دکھ درد اولیاء کا لباس ، بزرگوں کا مسکن اور انبیاء کی لازمی صفت ہوتے ہیں۔
‫#‏کشف‬ المحجوب

حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ امین کون ہے ؟
آپ نے فرمایا کہ جسے ذاتی اختیار حاصل نہ ہو اور اختیارِ مالک کو اس نے قبول کر لیا ہو۔
‫#‏کشف‬ المحجوب

شریعت بغیر حقیقت کے ریا اور حقیقت بغیر شریعت کے نفاق ہے۔
‫#‏کشف‬ المحجوب
شریعت کا قیام حقیقت کے وجود کے بغیر محال ہے اور حقیقت کا قیام شریعت کی حفاظت کے بغیر بھی محال ہے۔اسکی مثال اس شخص کی مانند ہے جو روح کو ساتھ زندہ ہو۔جب روح اس سے جدا ہوتی ہے تو وہ شخص مردہ ہو جاتا ہے۔اور روح جب تک رہتی ہے تو اسکی قدر و قیمت ایک دوسرے کے ساتھ رہنے تک ہے۔۔
‫#‏کشف‬ المحجوب

مجاہدہ شریعت ہے اور ہدایت اُسکی حقیقت،شریعت از قسم کسب ہے اور حقیقت از قسم عطائے ربانی۔
‫#‏کشف‬ المحجوب

شریعت و حقیقت مشائخ طریقت کے دو اصطلاحی کلمے ہیں۔جن میں سے ایک ظاہر حال کی صحت کو واضح کرتا ہے اور دوسرا باطن کی اقامت کو بیان کرتا ہے۔
‫#‏کشف‬ المحجوب
علم الیقین علماء کا درجہ ہے کہ وہ احکام و اوامر پر استقامت رکھتے ہیں اور عین الیقین عارفوں کا مقام ہے کہ موت کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں اور حق الیقین محبوبانِ خدا کی فنا کا نام ہےکہ وہ تمام موجودات سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔
علم الیقین مجاہدے سے ہوتا ہے عین الیقین انس و محبت سے اور حق الیقین مشاہدے سے۔اور یہ کہ ایک عام ہے دوسرا خاص تیسرا خاص الخاص۔

#کشف المحجوب

Saturday, October 18, 2014

درویش کے لئے ضروری ہے کہ سنت کی اتباع کے وقت دل کو دنیا اور شغل حرام سے دور رکھے کیونکہ درویش کی ہلاکت اس کےدل کی خرابی میں ہے۔جس طرح کہ تونگر کی خرابی گھر اور خاندان کی خرابی میں مضمر ہے۔مالدار کی خرابی کا تو بدل ممکن ہے لیکن درویش کی خرابی کا کوئی بدل ممکن نہیں۔

#کشف المحجوب
حضرت احمد حماد سرخسی رحمتہ اللہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا کہ کیا آپکو نکاح کی ضرورت پیش آئی ؟
فرمایا نہیں۔
پوچھا کیوں؟
فرمایا اس لئے کہ میں اپنے احوال سے یا تو غائب ہوتا ہوں یا اپنے سے حاضر، جب غائب ہوتا ہوں تو مجھے دو جہان کی کوئی چیز یاد نہیں رہتی اور جب حاضر ہوتا ہوں تو میں اپنے نفس پر ایسا قابو رکھتا ہوں کہ جب روٹی ملے تو وہ سمجھتا ہے کہ ہزار حوریں مل گئیں۔دل کی مشغولیت بہت بڑا کام ہے جس طرح چاہو اسے رکھو۔

#کشف المحجوب
جس چیز پر دسترس نہ ہو اُس کا اندیشہ باطل ہے۔

#کشف المحجوب
حال کے بارے میں پوچھنا محال ہے اس لئے کہ حال کی تعبیر نا ممکن ہے۔

#کشف المحجوب
حضرت شبلہ رحمتہ اللہ علیہ اپنی مناجات میں کہتے ہیں کہ اے خدا اگر تو آسمان کو میرے گلے کا طوق اور زمین کو میرے پاوں کی زنجیر اور عالم کو میرے خون کا پیاسا بنا دے تب بھی میں تیری بارگاہ سے نہ ہٹوں گا۔
حضرت داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے مرشد(حضرت شیخ ابوالفضل محمد بن حسن ختلی) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک سال جنگل میں اولیاء کا اجتماع ہوا۔ میرے مرشد حضرت حضری رحمتہ اللہ علیہ  مجھے اپنے ہمراہ وہاں لے گئے۔ میں نے وہاں ایک جماعت دیکھی جو تخت کے نیچے تھی اور ایک جماعت دیکھی جو تخت کے اوپر بیٹھی تھی۔کوئی اُڑتا آرہا تھا اور کوئی کسی طریق سے۔میرے مرشد نے کسی کی طرف التفات نہ کیا یہاں تک کہ ایک جوان کو میں نے دیکھا جس کی جوتیاں پھٹی ہوئی تھیں اور عصا شکستہ تھا۔پاوں نکمے بدن جھلسا ہوا جسم کمزور و لاغر۔جب وہ نمودار ہوا تو حضرت حضری رحمتہ اللہ دوڑ کر اس کے پاس پہنچے اور اسے بلند تر مقام پر بٹھایا۔فرماتے ہیں کہ میں یہ دیکھ کر حیرت میں پڑگیا۔اس کے بعد شیخ سے دریافت کیا تو آُنہوں نے فرمایا یہ بندہ ایسا صاحبِ ولی ہے کہ وہ ولایت کا تابع نہیں بلکہ ولایت اُس کے تابع ہے۔وہ کرامتوں کی طرف توجہ نہیں کرتا۔

#کشف المحجوبا
محبت میں کم سے کم درجہ اپنے اختیار کی نفی ہے۔کیونکہ حق تعالی کا اختیار ازلی ہے اس کی نفی ممکن نہیں اور بندے کا اختیار عارضی ہےاس کی نفی جائز ہے۔

#کشف المحجوب
لازم ہے کہ عارضی اختیار کو پایمال کیا جائے تا کہ ازلی اختیار قائم و باقی رہے۔

#کشف المحجوب
رات دوستوں کی خلوت کا وقت ہے اور دن بندوں کی خدمت کا وقت ہے۔


حضرت سہل بن عبداللہ تستری رحتمہ اللہ علیہ کا واقعہ ہے کہ اُن کے یہاں ایک فرزند پیدا ہوا وہ بچپن میں اپنی ماں سے کھانے کے لئے جو چیز مانگتا اس کی ماں کہتی خدا سے مانگ۔
وہ بچہ محراب میں چلا جاتا سجدہ کرتا اس کی ماں چھپا کر اُس کی خواہش پوری کر دیتی۔بچے کو معلوم تک نہ ہوتا کہ یہ ماں نے دیاہے۔یہاں تک کہ یہ اس کی عادت بن گئی۔ایک دن بچہ مدرسہ سے آیا تو اُس کی ماں گھر میں موجود نہ تھی۔عادت کے مطابق سر سجدہ میں رکھ دیا ۔اللہ تعالی نے جو اُس کی خواہش تھی پوری کر دی۔ماں جب آئی تو اُس نے پوچھا اے بیٹے یہ چیز کہاں سے آئی ؟
اُس نے کہا وہیں سے جہاں سے روز آتی ہے۔

#کشف المحجوب
حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس جب حضرت ابو بکر شبلی رحمتہ اللہ علیہ آئے تو حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا اے ابو بکر تمہارے دماغ میں ابھی تک گھمنڈ ہے کہ میں خلیفہ کے خاص الخاص کا فرزند ہوں اور سامرہ کا امیر ہوں۔یہ تمہارے کام ناں آئے گا۔جب تک کہ تم بازار میں جا کر ہر ایک کے سامنے دستِ سوال نہ  پھیلاو گے اس وقت تک اپنی قدرو قیمت نا جان سکو گے۔
چنانچہ اُنہوں نے ایسا ہی کیا روزانہ بازار میں اُن کی قدر و قیمت گھٹتی گئی یہاں تک کہ چھ سال میں اس حال کوپہنچ گئے کہ اُنہیں بازار میں کسی نے کچھ نہ دیا۔اس وقت حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا حال بیان کیا۔آپ نے فرمایا اے ابو بکر اب تم اپنی قدروقیمت کو پہچانو کہ لوگوں کی نظر میں تمہاری کوئی قیمت نہیں ہے۔لہذا تم اُن لوگوں کو دل میں جگہ نہ دو اور ان کی کچھ منزلت نہ سمجھو۔


Monday, September 22, 2014


حضرت حارث محاسبی رحمتہ اللہ علیہ نے چالیس سال تک دن رات کے کسی حصہ میں دیوار سے ٹیک لگا کر کمر سیدھی نہیں کی اور دو زانو کے سوا کسی اور حالت میں نہ بیٹھے۔ لوگوں نے عرض کی آپ اتنی تکلیف و مشقت کیوں برداشت کرتے ہیں؟
فرمایا مجھے شرم آتی ہے کہ میں حق تعالی کے مشاہدے میں اس طرح نہ بیٹھوں جس طرح بندہ بیٹھتا ہے۔

#کشف المحجوب

حضرت حارث محاسبی رحمتہ اللہ علیہ نے چالیس سال تک دن رات کے کسی حصہ میں دیوار سے ٹیک لگا کر کمر سیدھی نہیں کی اور دو زانو کے سوا کسی اور حالت میں نہ بیٹھے۔ لوگوں نے عرض کی آپ اتنی تکلیف و مشقت کیوں برداشت کرتے ہیں؟
فرمایا مجھے شرم آتی ہے کہ میں حق تعالی کے مشاہدے میں اس طرح نہ بیٹھوں جس طرح بندہ بیٹھتا ہے۔

#کشف المحجوب

انسان نہ تو سامان کی کثرت کی بناء پر دنیا دار بنتا ہے اور نہ سامان کی قلت کی بناء پر درویش۔

جو شخص با وضو سوئے اللہ تعالی اُس کی روح کو اجازت فرماتا ہے کہ وہ عرش کا طواف کرے اور وہاں اللہ تعالی کو سجدہ کرے۔

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
#کشف المحجوب

جس چیز کی حقیقت عقلوں میں نہ سما سکے اُسے زبان کیسے تعبیر کر سکتی ہے۔۔۔

حسن ادب ایمان کا حصہ ہے۔

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

جب محب اپنی آنکھ کو موجودات کے دیکھنے سے بند کرتا ہے تو وہ يقيناً اپنے دل میں موجودات کے خالق کا مشاہدہ کرتا ہے۔

#کشف المحجوب

کمال پرہیز گاری یہ ہے کہ بے علم کو علم سکھائے۔

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ سے جب لوگوں نے عمر دریافت کی تو فرمایا چار سال۔لوگوں نے پوچھا یہ کس طرح ؟
فرمایا گزشتہ ستر سال کی عمر حجاب و غیبت میں گزری ہے اور میں نے مشاہدہ نہیں کیا۔ صرف یہ چار سال ہیں جس میں مشاہدہ کیا ہے۔زمانہ حجاب کی عمر قابلِ شمار نہیں۔۔۔

#کشف المحجوب

آدمی اپنے دوست کے دین اور اُس کے طور و طریق پر ہوتا ہے۔لہٰذا ضروری ہے کہ وہ دیکھے کہ کس سے دوستی رکھتا ہے۔

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت شبلی رحمتہ اللہ علیہ اپنی دعا میں کہا کرتے تھے کہ 

'' اے خدا جنت و دوزخ کو اپنے غیب کے خزانوں میں پوشیدہ رکھ اور اِن کی یاد لوگوں کے دلوں سے فراموش کر دے تا کہ ہم بغیر کسی واسطہ کے خالص تیری عبادت کر سکیں ''

#کشف المحجوب

اکیلے آدمی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔جب دو ایک ساتھ ہوں گے تو دور رہے گا۔

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

''جو خاموش رہا اُس نے نجات پائی''

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ 

'' اللہ تعالی کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر دنیا و آخرت میں وہ اللہ تعالی سے ایک لمحہ کے لئے محجوب ہو جائیں تو وہ مرتد ہو جائیں''

#کشف المحجوب

مرید کے لئے اکیلے رہنے سے بڑھ کر کوئی آفت نہیں ہے۔

#کشف المحجوب

ایک صاحبِ مرتبہ بزرگ کو میں نے دیکھا کہ وہ بیابان سے فاقہ زدہ اور سفر کی صعوبتیں اُٹھائے ہوئے بازارِ کوفہ میں پہنچا۔اُس کے ہاتھ میں ایک چڑیا تھی اور آواز لگاتا تھا کہ مجھے اس چڑیا کی خاطر کچھ دے دو۔
لوگوں نے کہا اے شخص یہ کیا کہتے ہو ؟
اُس نے کہا یہ محال ہے کہ میں یہ کہوں کہ مجھے خدا کے نام پر کچھ دے دو، دنیا کے لئے ادنیٰ چیز کا ہی وسیلہ لایا جا سکتا ہے۔چونکہ دنیا قلیل ہے ۔

‫#‏کشف‬ المحجوب

حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میرا ایک رفیق تھا ، اللہ تعالی نے اُسے بلا لیا اور دنیاوی نعمت سے اُخروی نعمتوں میں پینچا دیا۔میں نے آُسے خواب میں دیکھا تو اُس سے پوچھا کہ اللہ تعالی نے تمہارے ساتھ کیا کیا ؟
اُس نے کہا مجھے بخش دیا۔میں نے پوچھا کس بنا پر ؟
اُس ے کہا کہ اللہ تعالی نے مجھے اُٹھا کر فرمایا اے میرے بندے ، تو نے بخیلوں اور کمینوں کی بڑی اذیتیں برداشت کی ہیں۔ تو نے اُن کے آگے ہاتھ بھیلایا پھر صبر سے کام لیا۔اس لئے تجھے بخشتا ہوں۔

‫#‏کشف‬ المحجوب

''اپنی ضرورتوں کے لئے خوب صورت چہرے والوں سے سوال کیا کرو''
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
‫#‏کشف‬ المحجوب

کسی دنیا دار نے حضرت رابعہ عدویہ رحمتہ اللہ علیہا سے کہا 
اے رابعہ مانگو میں تمہیں دوں گا۔

''اُنہوں نے جواب دیا اے شخص، جبکہ میں دنیا کے پیدا کرنے والے سے حیا کرتی ہوں کہ دنیا اُس سے مانگوں ، تو کیا اپنے جیسے سے مانگنے میں مجھے شرم نہ آئے گی''
‫#‏کشف‬ المحجوب

حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ
'' شیطان پر گنہگار کے سونے سے بڑھ کر کوئی چیز سخت نہیں ۔ جب گنہگار سوتا ہے تو وہ کہتا ہے کب یہ اُٹھے گا جو اُٹھ کر خدا کی نافرمانی کریگا ''
‫#‏کشف‬ المحجوب

حضرت با یزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
''بغیر مراقبہ کے درویش کا چلنا غفلت کی نشانی ہے''
‫#‏کشف‬ المحجوب

سالکانِ راہِ حق کے لئے بسیار خوری سے بڑھ کر کوئی چیز نقصان رساں نہیں۔
‫#‏کشف‬ المحجوب

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
''جو پیٹ میں داخل کرنے کی ہی فکر میں رہتا ہے اُس کی قدر و قیمت وہ ہوتی ہے جو اس سے خارج ہوتا ہے''
‫#‏کشف‬ المحجوب

Thursday, August 28, 2014


اپنے شکموں کو بھوکا رکھو، لالچ کو چھوڑ دو، جسموں کی زیبائش نہ کرو ، خواہشوں کو کم کرو، دل و جگر کو پیاسا رکھو، دنیا سے کنارہ کشی کرو تا کہ تمہارے دل اللہ کا مشاہدہ کر سکیں۔

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
#کشف المحجوب


حضرت حارث محاسبی رحمتہ اللہ علیہ نے چالیس سال تک دن رات کے کسی حصہ میں دیوار سے ٹیک لگا کر کمر سیدھی نہیں کی اور دو زانو کے سوا کسی اور حالت میں نہ بیٹھے۔ لوگوں نے عرض کی آپ اتنی تکلیف و مشقت کیوں برداشت کرتے ہیں؟
فرمایا مجھے شرم آتی ہے کہ میں حق تعالی کے مشاہدے میں اس طرح نہ بیٹھوں جس طرح بندہ بیٹھتا ہے۔

#کشف المحجوب


طالبانِ حق کے لئے فضول باتیں کرنا بُرا ہے اور بری بات کہنا تو بڑی بد نصیبی ہے..

#کشف المحجوب


فعل پر جھگڑنا فاعل پر جھگڑنا ہوتا ہے۔۔

#کشف المحجوب


سب سے بُرا شخص وہ ہے جو اکیلا کھائے، غلام کو مارے اور خیرات سے روکے رہے۔۔

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم
#کشف المحجوب


انسان نہ تو سامان کی کثرت کی بناء پر دنیا دار بنتا ہے اور نہ سامان کی قلت کی بناء پر درویش۔

#کشف المحجوب


حضرت شبلی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اپنی اطلاع میں مجھ سے فرمایا '' جو سویا وہ غافل ہوا اور جو غافل ہوا وہ محجوب ہوا ''

#کشف المحجوب


اللہ تعالی اُس بندے پر اِظہارِ خوشنودی فرماتا ہے جو بحالتِ سجدہ سو جاتا ہے۔اور اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے میرے بندے کی طرف دیکھو اُس کی روح مجھ سے ہمراز ہے اور اُس کا بدن عبادت کے فرش پر ہے۔

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم 
#کشف المحجوب

حضرت ابو بکر شبلی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک مدعی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ '' خاموشی ، بولنے سے بہتر ہے''
اِس پر حضرت شبلی نے فرمایا کہ '' تیرا خاموش رہنا تیرے بولنے سے بہتر ہے اور میرا بولنا میرے خاموش رہنے سے بہتر ہے۔ کیونکہ تیرا بولنا لغو ہے اور تیری خاموشی ٹھٹھا اور میرا بولنا خاموشی سے اِس لئے بہتر ہے کہ میری خاموشی میں حلم و بردباری ہے اور کلام میں علم و دانائی ہے ''
‫#‏کشف‬ المحجوب

جو شخص با وضو سوئے اللہ تعالی اُس کی روح کو اجازت فرماتا ہے کہ وہ عرش کا طواف کرے اور وہاں اللہ تعالی کو سجدہ کرے۔
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
‫#‏کشف‬ المحجوب

Thursday, August 14, 2014

ایک شخص حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہما کے دروازے پر آیا اور اُس نے عرض کیا اے فرزندِ رسول، مجھ پر چار سو درہم قرض ہیں۔ حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہما  نے حکم دیاکہ اسے چار سو درہم دئے جائیں، اور خود روتے ہوئے اندر تشریف لے گئے۔تو لوگوں نے پوچھا اے فرزندِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! رونے کی کیا وجہ ہے ؟
آپ نے فرمایا اس لئے روتا ہوں کہ میں نے اُس شخص کے حال کی جستجو میں کوتاہی کی ہے یہاں تک کہ میں نے اسے سوال کی ذلت میں ڈال دیا۔

#کشف المحجوب
حضرت خلیل اللہ علیہ سلام  اُس وقت تک کھانا نوش نہ فرماتے تھے جب تک کہ کوئی مہمان موجود نہ ہوتا۔ایک مرتبہ تین دن گزر گئے کوئی مہمان نہ آیا۔اتفاق سے ایک کافر کا گزر آپ کے دروازے کے آگے سے ہوا۔ آپ علیہ سلام نے اس سے پوچھا تو کون ہے ؟
اس نے کہامیں کافر ہوں
آپ نے فرمایا تو میری مہمانی اور عزت افزائی کے قابل نہیں ہے۔
اُسی وقت حق تعالی نے وحی نازل فرمائی کہ اے خلیل ،جسے میں نے ستر(70) سال تک پالا تم نے اُسے ایک روٹی تک نہ دی۔

#کشف المحجوب


حضرت شبلی رحمتہ اللہ علیہ کو دیوانگی کے الزام میں شفا خانہ میں داخل کر کے محبوس کر کے کچھ لوگ بغرض ملاقات اُن کے پاس گئے۔آپ نے پوچھا تم کون ہو؟
لوگوں نے کہا کہ ہم آپ سے محبت کرنے والے ہیں
یہ سن کر آپ نے پتھر مارنے کے لئے اُٹھایا۔لوگ سب بھاگ کھڑے ہوئے۔اس وقت آپ نے فرمایا کہ اگر تم مجھ سے سچی محبت کرنے والے ہوتے تو مار کے ڈر سے نہ بھاگتے۔ اس لئے کہ محبین ، محبوب کی بلا سے بھاگا نہیں کرتے۔

#کشف المحجوب


حضرت حسین بن منصور حلاج رحمتہ اللہ علیہ جب دار پر چڑھائے گئے تو اُن کا آخری کلام یہ تھا '' حب الواحد افراد الواحد لہ ''
محب کے لئے یہ کتنا خوشی کا مقام ہہے کہ اپنی ہستی کو راہِ محبت میں فنا کر دے۔اور نفس کا اختیار محبوب کے پانے میں صرف کر کے خود کو فنا کر دے


اللہ کے نزدیک کوئی چیز اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں کہ جوان آدمی توبہ کرے۔

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
#کشف المحجوب


گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسا کہ اُس کا کوئی گناہ ہی نہیں۔

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
#کشف المحجوب


حضرت سہل بن تستری رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ توبہ یہ ہو کہ کئے ہوئے گناہوں کو نہ بھولو اور اُس کی ندامت میں ہمیشہ غرق رہو اگرچہ کتنے ہی زیادہ اعمال صالحہ ہو جائیں اُن پر غرور نہ کرو اِس لئے کہ برے فعل پر شرمندگی ،اعمال صالحہ پر مقدم ہے۔

#کشف المحجوب


حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
'' عوام کی توبہ گناہوں سے اور خواص کی توبہ غفلت سے ہے ''

کیونکہ عوام سے صرف ظاہر حال پوچھا جائے گا اور خواص سے معاملہ کی تحقیق کی جائے گی۔عوام کے لئے غفلت نعمت اور خواص کے لئے حجاب ہے۔

#کشف المحجوب

توبہ



حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

'' توبہ دو طرح کی ہوتی ہے ایک توبہ انابت دوسری توبہ استحیاء۔ توبہ انابت یہ ہے کہ بندہ عذابِ الہٰی کے خوف سے توبہ کرے اور توبہ استحیاء یہ ہے کہ بندا حق تعالی کے فضل و کرم سے حیا کر کے توبہ کرے''

#کشف المحجوب


حضرت سہل بن عبد اللہ تستری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ 

''محب صادق کی پہچان یہ ہے کہ اللہ تعالی کی طرف اس پر ایک فرستادہ مقرر ہوتا ہے کہ جب نماز کا وقت آئے تو وہ بندے کو اُس کی ادائیگی پر اُبھارے اگر بندہ سوتا ہو تو اُسے بیدار کر دے''

#کشف المحجوب


حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ جب بوڑھے ہو گئے تو اُس بڑھاپے میں بھی جوانی کے کسی ورد کو نا چھوڑا۔لوگوں نے عرض کیا اے شیخ اب آپ بوڑھے ہو گئے کمزور ہو گئے ہیں ان میں سے کچھ نوافل چھوڑ دیجئے۔اُنہوں نے فرمایا یہی تو وہ چیزیں ہیں جن کو ابتدا میں کر کے اِس مرتبہ کو پایا ہے اب یہ نا ممکن ہے کہ اِس انتہا پر پہنچ کر اِن سے دستبردار ہو جاوں۔

#کشف المحجوب

Tuesday, July 8, 2014

روزے کی حقیقت


روزے کی حقیقت رُکنا ہے۔اور پوری طریقت اِس میں پنہاں ہے۔ روزے میں ادنیٰ درجہ بھوکے رہنا ہے۔بھوکے رہنے کو شریعت اور عقل دونوں پسند کرتے ہیں۔
‫#‏کشف‬ المحجوب

جس نے اللہ کو پہچان لیا


حضرت ابو بکر واسطی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
''جس نے اللہ کو پہچان لیا وہ ہر ایک سے نہ صرف جدا ہوگیا بلکہ گونگا اور دل برداشتہ بھی ہو گیا ''
مطلب یہ کہ جس نے اُسے پہچان لیا اُس نے دل سے تمام اغیار کو نکال دیا اور اس کی تعبیر میں گونگا بن کر اپنے اوصاف سے فانی ہو گیا۔
‫#‏کشف‬ المحجوب

اللہ تعالی کی معرفت


حضرت محمد بن واسع رحمتہ اللہ علیہ عارف کی صفت میں بیان فرماتے ہیں۔
''جسے اللہ تعالی کی معرفت حاصل ہوگئی وہ بات کم کرے گا اور اُس کی حیرت دائمی ہو گی''
کیونکہ الفاظ کا جامہ اُسے پہنایا جا سکتا ہے جو تحتِ عبارت ہو اور اصول میں عبارت کی ایک حد ہے اور معبر چونکہ محدود نہیں ہے تو عبارت کی بنیاد اس پر کیسے رکھی جا سکتی ہے ؟
جب عبارت کی ایک حد ہے اور معبر یعنی اللہ تعالی غیر محدود ہے تو اُسے عبارت کی حد بندی میں کیسے لایا جا سکتا ہے۔اور جب مقصود عبارت میں نا سما سکے اور بندہ اس میں عاجز و لاچار رہ جائے تو بجز دائمی حیرت کے کیا چارہ کار ہوتا ہے۔

‫#‏کشف‬ المحجوب

طاعت و معصیت


حضرت ابو العباس قصاب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میری طاعت و معصیت دو شکلوں میں منقسم ہے۔جب میں کھاتا ہوں تو معاصی کا خمیر اپنے میں پاتا ہوں اور جب میں اِس سے ہاتھ کھینچ لیتا ہوں تو تمام طاعتوں کی بنیاد اپنے اندر دیکھتا ہوں۔بھوکے رہنے کا ثمرہ مشاہدہ ہے جس کا قائد و راہنما مجاہدہ ہے۔
‫#‏کشف‬ المحجوب

مرید کی ہر مراد


جب غذا کا طلبگار نفس سے ہاتھ کھینچتا ہے تو نفس بہت کمزور ہو جاتا ہے اور عقل ذیادہ قوی ہو جاتی ہے۔اور رگوں سے نفسانی قوتیں مضمحل ہو جاتی ہیں۔اور اس کے اسرار و براہیں زیادہ ظاہر ہونے لگتے ہیں اور جب نفس اپنی حرکتوں سے بے بس ہوتا ہے تو اس کے وجود سے نفسانی خواہش فنا ہوجاتی ہے۔باطل ارادے ،اظہارِ حق میں گم ہو جاتے ہیں تو اُس وقت مرید کی ہر مراد پوری ہوتی ہے۔
حضرت داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
‫#‏کشف‬ المحجوب

فاقہ


مرید کی شرط یہ ہے کہ اُس میں تین چیزیں موجود ہوں۔ ایک یہ کہ اُس کا سونا ، غلبہ کے بغیر نہ ہو۔ دوسرا یہ کہ اُس کا کلام ، ضرورت کے بغیر نہ ہو۔ تیسرا یہ کہ اُس کا کھانا فاقہ کے بغیر نہ ہو.
حضرت کتانی رحمتہ اللہ علیہ
‫#‏کشف‬ المحجوب

نفسانی خواہش کی بندش


جو بھوک سے بے قرار ہو در حقیقت وہ بھوکا نہیں ہے اس لئے کہ کھانے والے کی طلب غذا کے ساتھ ہے۔لہٰذا جس کا درجہ بھوک ہے وہ غذا کے نہ پانے کی وجہ سے ہے نہ کہ غذا کو چھوڑنے کی وجہ سے۔اور جو شخص کھانا موجود ہوتے ہوئے نہ کھائے اور بھوک کی تکلیف اُٹھائے در حقیقت وہی بھوکا ہے۔اور شیطان کی قید اور نفسانی خواہش کی بندش بھوکے رہنے ہی میں ہے۔
حضرت داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ 
‫#‏کشف‬ المحجوب

باطن کی تعمیر


شکم سیر ہو کر کھانے میں کوئی بلا نہیں،اگر اس میں بلا ہوتی تو جانور شکم سیر ہو کر نہ کھاتے۔معلوم ہوا کہ شکم سیر ہو کر کھانا جانوروں کا کھانا ہے اور بھوکا رہنا جانوں کا علاج ہے۔اور یہ کہ بھوک میں باطن کی تعمیر اور شکم سیری میں پیٹ کی تعمیر ہے۔
‫#‏کشف‬ المحجوب

جسموں کو بھوکا



حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ 

'' تم اپنے جسموں کو بھوکا اپنے جگروں کو پیاسا اور اپنے جسموں کو غیر آراستہ رکھو تا کہ تمہارے دل ، اللہ تعالی کو دنیا میں ظاہر طور پر دیکھ سکیں ''

#کشف المحجوب

بھوکا رہنا



بھوکا رہنا تمام اُمتوں اور مِلتوں کے نزدیک قابلِ تعریف اور بزرگی کی علامت ہے۔کیونکہ ظاہری لحاظ سے بھوکے کا دل زیادہ تیز اور اُس کی طبیعت زیادہ پاکیزہ اور تندرست ہوتی ہے۔خاص کر وہ شخص جو زیادہ پانی تک نہ پئے اور مجاہدے کے ذریعہ تزکیہ نفس کرے۔اس لئے بھوکے کا جسم متواضع اور دل خشوع والا ہوتا ہے۔کیونکہ بھوک نفسانی قوت کو فنا کر دیتی ہے۔

#کشف المحجوب

بھوکے کا شکم



حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ

'' اللہ کے نزدیک بھوکے کا شکم ستر عاقل عابدوں سے زیادہ محبوب ہے ''

#کشف المحجوب

ماہِ رمضان



حضرت ابراہیم ادہم رحمتہ اللہ علیہ کی بابت مروی ہے کہ وہ ماہِ رمضان میں اول سے آخر تک کچھ نہ کھاتے تھے ۔حالانکہ شدید گرمی کا زمانہ تھا اور روزانہ گندم کی مزدوری کو جایا کرتے تھے۔جتنی مزدوری ملتی تھی وہ سب درویشوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے۔اور رات بھر عبادت کرتے تھے نمازیں پڑھتے یہاں تک کہ دن نکل آتا تھا۔وہ لوگوں کے ساتھ اُن کی نظروں کے سامنے رہتے تھے لوگ دیکھا کرتے تھے کہ وہ نہ کچھ کھاتے ہیں اور نہ پیتے ہیں رات کو سوتے بھی نہیں۔

#کشف المحجوب

ماہِ رمضان



حضرت شیخ ابونصر سراج رحمتہ اللہ علیہ جن کو طاوس الفقرا اور صاحبِ لمع کہا جاتا ہے جب ماہِ رمضان ایا تو بغداد پہنچے اور مسجدِ شعر نیزیہ میں اقامت فرمائی تو اُن کو علیحدہ حُجرہ دے دیا گیا اور درویشوں کی امامت اُن کے سپرد کر دی گئی۔چنانچہ عید تک اُنہوں نے اُن کی امامت فرمائی اور تراویح میں پانچ ختم قرآن کئے۔ہر رات خادم ایک روٹی اُن کے حُجرے میں آ کر اُنہیں دے جاتا۔جب عید کا دن آیا اور وہ نماز پڑھ کر چلے گئے تو خادم نے حجرے میں نظر ڈالی تو تیسوں روٹیاں یونہی اپنی جگہ موجود تھیں۔

#کشف المحجوب

ماہِ رمضان



حضرت سہل بن عبداللہ تستری رحمتہ اللہ علیہ کی بابت منقول ہے کہ وہ ہر پندرہ دن کے بعد کھانا کھاتے تھے اور جب ماہِ رمضان آتا تو عید الفطر تک کچھ نہ کھاتے۔اِس کے باوجود روزانہ رات کو چار سو رکعات نمازیں پڑھا کرتے تھے ۔یہ حال انسان کی امکانی طاقت سے باہر ہے ۔بجز مشرب الہٰی کے ایسا نہیں ہو سکتا۔اُسی کی تائید سے ممکن ہے اور وہی تائید الہٰی اُس کی غذا بن جاتی ہے ۔کسی کے لئے دنیاوی نعمت غذا ہوتی ہے اور کسی کے لئے تائید الہٰی غذا۔۔

#کشف المحجوب

روزہ



حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب روزہ رکھے تو اپنے کان ، آنکھ ، زبان، ہاتھ اور جسم کے ہر عضو کا روزہ رکھے۔بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جن کا روزہ کچھ فائدہ مند نہیں ہوتا۔بجز اِس کے کہ وہ بھوکے اور پیاسے رہتے ہیں۔

#کشف المحجوب

Friday, June 27, 2014

تم سے پہلے ایک شخص گزرا ہے جس کی کوئی نیکی توحید کے سوا نہ تھی۔اُس نے اپنے گھر والوں سے کہا جب میں مر جاوں تو مجھے جلا دینا۔پھر خاکستر کو خوب باریک کر کے تیز ہوا کے دن آدھا خشکی میں اور آدھا دریا میں بہا دینا۔گھر والوں نے ایسا ہی کیا۔اللہ تعالی نے ہوا اور پانی سے فرمایا جو تم نے پھیلایا ہے اُن کو اکٹھا کرو اور میرے حضور لاو۔جب خدا کے حضور وپ پیش ہوا تو حق تعالی نے اُس سے فرمایا تجھے کس چیز نے اپنے ساتھ ایسا سلوک کرنے پر آمادہ کیا۔
اُس نے عرض کیا خدایا مجھے تیری حیا دامنگیر تھی۔اسی لئے میں نے اپنی جان پر ایسا ظلم کیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالی نے اُسے بخش دیا


حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
مسلم ، بخاری

اللہ کی پہچان

حضرت ابع بکر واسطی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ

''جس نے اللہ کو پہچان لیا وہ ہر ایک سے نہ صرف جدا ہوگیا بلکہ گونگا اور دل برداشتہ بھی ہو گیا ''

مطلب یہ کہ جس نے اُسے پہچان لیا اُس نے دل سے تمام اغیار کو نکال دیا اور اس کی تعبیر میں گونگا بن کر اپنے اوصاف سے فانی ہو گیا۔

عارف کی صفت

 حضرت محمد بن واسع رحمتہ اللہ علیہ معرفت  کی صفت میں بیان فرماتے ہیں۔

''جسے اللہ تعالی کی معرفت حاصل ہوگئی وہ بات کم کرے گا اور اُس کی حیرت دائمی ہو گی''

کیونکہ الفاظ کا جامہ اُسے پہنایا جا سکتا ہے جو تحتِ عبارت ہو اور اصول میں عبارت کی ایک حد ہے اور معبر چونکہ محدود نہیں ہے تو عبارت کی بنیاد اس پر کیسے رکھی جا سکتی ہے ؟
جب عبارت کی ایک حد ہے اور معبر یعنی اللہ تعالی غیر محدود ہے تو اُسے عبارت کی حد بندی میں کیسے لایا جا سکتا ہے۔اور جب مقصود عبارت میں نا سما سکے اور بندہ اس میں عاجز و لاچار رہ جائے تو بجز دائمی حیرت کے کیا چارہ کار ہوتا ہے۔

#کشف المحجوب