حضرت محمد بن واسع رحمتہ اللہ علیہ معرفت کی صفت میں بیان فرماتے ہیں۔
''جسے اللہ تعالی کی معرفت حاصل ہوگئی وہ بات کم کرے گا اور اُس کی حیرت دائمی ہو گی''
کیونکہ الفاظ کا جامہ اُسے پہنایا جا سکتا ہے جو تحتِ عبارت ہو اور اصول میں عبارت کی ایک حد ہے اور معبر چونکہ محدود نہیں ہے تو عبارت کی بنیاد اس پر کیسے رکھی جا سکتی ہے ؟
جب عبارت کی ایک حد ہے اور معبر یعنی اللہ تعالی غیر محدود ہے تو اُسے عبارت کی حد بندی میں کیسے لایا جا سکتا ہے۔اور جب مقصود عبارت میں نا سما سکے اور بندہ اس میں عاجز و لاچار رہ جائے تو بجز دائمی حیرت کے کیا چارہ کار ہوتا ہے۔
#کشف المحجوب