حضرت سہل بن عبداللہ تستری رحمتہ اللہ علیہ کی بابت منقول ہے کہ وہ ہر پندرہ دن کے بعد کھانا کھاتے تھے اور جب ماہِ رمضان آتا تو عید الفطر تک کچھ نہ کھاتے۔اِس کے باوجود روزانہ رات کو چار سو رکعات نمازیں پڑھا کرتے تھے ۔یہ حال انسان کی امکانی طاقت سے باہر ہے ۔بجز مشرب الہٰی کے ایسا نہیں ہو سکتا۔اُسی کی تائید سے ممکن ہے اور وہی تائید الہٰی اُس کی غذا بن جاتی ہے ۔کسی کے لئے دنیاوی نعمت غذا ہوتی ہے اور کسی کے لئے تائید الہٰی غذا۔۔
No comments:
Post a Comment