حضرت شیخ ابونصر سراج رحمتہ اللہ علیہ جن کو طاوس الفقرا اور صاحبِ لمع کہا جاتا ہے جب ماہِ رمضان ایا تو بغداد پہنچے اور مسجدِ شعر نیزیہ میں اقامت فرمائی تو اُن کو علیحدہ حُجرہ دے دیا گیا اور درویشوں کی امامت اُن کے سپرد کر دی گئی۔چنانچہ عید تک اُنہوں نے اُن کی امامت فرمائی اور تراویح میں پانچ ختم قرآن کئے۔ہر رات خادم ایک روٹی اُن کے حُجرے میں آ کر اُنہیں دے جاتا۔جب عید کا دن آیا اور وہ نماز پڑھ کر چلے گئے تو خادم نے حجرے میں نظر ڈالی تو تیسوں روٹیاں یونہی اپنی جگہ موجود تھیں۔
No comments:
Post a Comment