ایک صاحبِ مرتبہ بزرگ کو میں نے دیکھا کہ وہ بیابان سے فاقہ زدہ اور سفر کی صعوبتیں اُٹھائے ہوئے بازارِ کوفہ میں پہنچا۔اُس کے ہاتھ میں ایک چڑیا تھی اور آواز لگاتا تھا کہ مجھے اس چڑیا کی خاطر کچھ دے دو۔
لوگوں نے کہا اے شخص یہ کیا کہتے ہو ؟
اُس نے کہا یہ محال ہے کہ میں یہ کہوں کہ مجھے خدا کے نام پر کچھ دے دو، دنیا کے لئے ادنیٰ چیز کا ہی وسیلہ لایا جا سکتا ہے۔چونکہ دنیا قلیل ہے ۔
No comments:
Post a Comment