حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس جب حضرت ابو بکر شبلی رحمتہ اللہ علیہ آئے تو حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا اے ابو بکر تمہارے دماغ میں ابھی تک گھمنڈ ہے کہ میں خلیفہ کے خاص الخاص کا فرزند ہوں اور سامرہ کا امیر ہوں۔یہ تمہارے کام ناں آئے گا۔جب تک کہ تم بازار میں جا کر ہر ایک کے سامنے دستِ سوال نہ پھیلاو گے اس وقت تک اپنی قدرو قیمت نا جان سکو گے۔
چنانچہ اُنہوں نے ایسا ہی کیا روزانہ بازار میں اُن کی قدر و قیمت گھٹتی گئی یہاں تک کہ چھ سال میں اس حال کوپہنچ گئے کہ اُنہیں بازار میں کسی نے کچھ نہ دیا۔اس وقت حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا حال بیان کیا۔آپ نے فرمایا اے ابو بکر اب تم اپنی قدروقیمت کو پہچانو کہ لوگوں کی نظر میں تمہاری کوئی قیمت نہیں ہے۔لہذا تم اُن لوگوں کو دل میں جگہ نہ دو اور ان کی کچھ منزلت نہ سمجھو۔
No comments:
Post a Comment