Tuesday, July 8, 2014

روزے کی حقیقت


روزے کی حقیقت رُکنا ہے۔اور پوری طریقت اِس میں پنہاں ہے۔ روزے میں ادنیٰ درجہ بھوکے رہنا ہے۔بھوکے رہنے کو شریعت اور عقل دونوں پسند کرتے ہیں۔
‫#‏کشف‬ المحجوب

جس نے اللہ کو پہچان لیا


حضرت ابو بکر واسطی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
''جس نے اللہ کو پہچان لیا وہ ہر ایک سے نہ صرف جدا ہوگیا بلکہ گونگا اور دل برداشتہ بھی ہو گیا ''
مطلب یہ کہ جس نے اُسے پہچان لیا اُس نے دل سے تمام اغیار کو نکال دیا اور اس کی تعبیر میں گونگا بن کر اپنے اوصاف سے فانی ہو گیا۔
‫#‏کشف‬ المحجوب

اللہ تعالی کی معرفت


حضرت محمد بن واسع رحمتہ اللہ علیہ عارف کی صفت میں بیان فرماتے ہیں۔
''جسے اللہ تعالی کی معرفت حاصل ہوگئی وہ بات کم کرے گا اور اُس کی حیرت دائمی ہو گی''
کیونکہ الفاظ کا جامہ اُسے پہنایا جا سکتا ہے جو تحتِ عبارت ہو اور اصول میں عبارت کی ایک حد ہے اور معبر چونکہ محدود نہیں ہے تو عبارت کی بنیاد اس پر کیسے رکھی جا سکتی ہے ؟
جب عبارت کی ایک حد ہے اور معبر یعنی اللہ تعالی غیر محدود ہے تو اُسے عبارت کی حد بندی میں کیسے لایا جا سکتا ہے۔اور جب مقصود عبارت میں نا سما سکے اور بندہ اس میں عاجز و لاچار رہ جائے تو بجز دائمی حیرت کے کیا چارہ کار ہوتا ہے۔

‫#‏کشف‬ المحجوب

طاعت و معصیت


حضرت ابو العباس قصاب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میری طاعت و معصیت دو شکلوں میں منقسم ہے۔جب میں کھاتا ہوں تو معاصی کا خمیر اپنے میں پاتا ہوں اور جب میں اِس سے ہاتھ کھینچ لیتا ہوں تو تمام طاعتوں کی بنیاد اپنے اندر دیکھتا ہوں۔بھوکے رہنے کا ثمرہ مشاہدہ ہے جس کا قائد و راہنما مجاہدہ ہے۔
‫#‏کشف‬ المحجوب

مرید کی ہر مراد


جب غذا کا طلبگار نفس سے ہاتھ کھینچتا ہے تو نفس بہت کمزور ہو جاتا ہے اور عقل ذیادہ قوی ہو جاتی ہے۔اور رگوں سے نفسانی قوتیں مضمحل ہو جاتی ہیں۔اور اس کے اسرار و براہیں زیادہ ظاہر ہونے لگتے ہیں اور جب نفس اپنی حرکتوں سے بے بس ہوتا ہے تو اس کے وجود سے نفسانی خواہش فنا ہوجاتی ہے۔باطل ارادے ،اظہارِ حق میں گم ہو جاتے ہیں تو اُس وقت مرید کی ہر مراد پوری ہوتی ہے۔
حضرت داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
‫#‏کشف‬ المحجوب

فاقہ


مرید کی شرط یہ ہے کہ اُس میں تین چیزیں موجود ہوں۔ ایک یہ کہ اُس کا سونا ، غلبہ کے بغیر نہ ہو۔ دوسرا یہ کہ اُس کا کلام ، ضرورت کے بغیر نہ ہو۔ تیسرا یہ کہ اُس کا کھانا فاقہ کے بغیر نہ ہو.
حضرت کتانی رحمتہ اللہ علیہ
‫#‏کشف‬ المحجوب

نفسانی خواہش کی بندش


جو بھوک سے بے قرار ہو در حقیقت وہ بھوکا نہیں ہے اس لئے کہ کھانے والے کی طلب غذا کے ساتھ ہے۔لہٰذا جس کا درجہ بھوک ہے وہ غذا کے نہ پانے کی وجہ سے ہے نہ کہ غذا کو چھوڑنے کی وجہ سے۔اور جو شخص کھانا موجود ہوتے ہوئے نہ کھائے اور بھوک کی تکلیف اُٹھائے در حقیقت وہی بھوکا ہے۔اور شیطان کی قید اور نفسانی خواہش کی بندش بھوکے رہنے ہی میں ہے۔
حضرت داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ 
‫#‏کشف‬ المحجوب

باطن کی تعمیر


شکم سیر ہو کر کھانے میں کوئی بلا نہیں،اگر اس میں بلا ہوتی تو جانور شکم سیر ہو کر نہ کھاتے۔معلوم ہوا کہ شکم سیر ہو کر کھانا جانوروں کا کھانا ہے اور بھوکا رہنا جانوں کا علاج ہے۔اور یہ کہ بھوک میں باطن کی تعمیر اور شکم سیری میں پیٹ کی تعمیر ہے۔
‫#‏کشف‬ المحجوب

جسموں کو بھوکا



حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ 

'' تم اپنے جسموں کو بھوکا اپنے جگروں کو پیاسا اور اپنے جسموں کو غیر آراستہ رکھو تا کہ تمہارے دل ، اللہ تعالی کو دنیا میں ظاہر طور پر دیکھ سکیں ''

#کشف المحجوب

بھوکا رہنا



بھوکا رہنا تمام اُمتوں اور مِلتوں کے نزدیک قابلِ تعریف اور بزرگی کی علامت ہے۔کیونکہ ظاہری لحاظ سے بھوکے کا دل زیادہ تیز اور اُس کی طبیعت زیادہ پاکیزہ اور تندرست ہوتی ہے۔خاص کر وہ شخص جو زیادہ پانی تک نہ پئے اور مجاہدے کے ذریعہ تزکیہ نفس کرے۔اس لئے بھوکے کا جسم متواضع اور دل خشوع والا ہوتا ہے۔کیونکہ بھوک نفسانی قوت کو فنا کر دیتی ہے۔

#کشف المحجوب

بھوکے کا شکم



حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ

'' اللہ کے نزدیک بھوکے کا شکم ستر عاقل عابدوں سے زیادہ محبوب ہے ''

#کشف المحجوب

ماہِ رمضان



حضرت ابراہیم ادہم رحمتہ اللہ علیہ کی بابت مروی ہے کہ وہ ماہِ رمضان میں اول سے آخر تک کچھ نہ کھاتے تھے ۔حالانکہ شدید گرمی کا زمانہ تھا اور روزانہ گندم کی مزدوری کو جایا کرتے تھے۔جتنی مزدوری ملتی تھی وہ سب درویشوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے۔اور رات بھر عبادت کرتے تھے نمازیں پڑھتے یہاں تک کہ دن نکل آتا تھا۔وہ لوگوں کے ساتھ اُن کی نظروں کے سامنے رہتے تھے لوگ دیکھا کرتے تھے کہ وہ نہ کچھ کھاتے ہیں اور نہ پیتے ہیں رات کو سوتے بھی نہیں۔

#کشف المحجوب

ماہِ رمضان



حضرت شیخ ابونصر سراج رحمتہ اللہ علیہ جن کو طاوس الفقرا اور صاحبِ لمع کہا جاتا ہے جب ماہِ رمضان ایا تو بغداد پہنچے اور مسجدِ شعر نیزیہ میں اقامت فرمائی تو اُن کو علیحدہ حُجرہ دے دیا گیا اور درویشوں کی امامت اُن کے سپرد کر دی گئی۔چنانچہ عید تک اُنہوں نے اُن کی امامت فرمائی اور تراویح میں پانچ ختم قرآن کئے۔ہر رات خادم ایک روٹی اُن کے حُجرے میں آ کر اُنہیں دے جاتا۔جب عید کا دن آیا اور وہ نماز پڑھ کر چلے گئے تو خادم نے حجرے میں نظر ڈالی تو تیسوں روٹیاں یونہی اپنی جگہ موجود تھیں۔

#کشف المحجوب

ماہِ رمضان



حضرت سہل بن عبداللہ تستری رحمتہ اللہ علیہ کی بابت منقول ہے کہ وہ ہر پندرہ دن کے بعد کھانا کھاتے تھے اور جب ماہِ رمضان آتا تو عید الفطر تک کچھ نہ کھاتے۔اِس کے باوجود روزانہ رات کو چار سو رکعات نمازیں پڑھا کرتے تھے ۔یہ حال انسان کی امکانی طاقت سے باہر ہے ۔بجز مشرب الہٰی کے ایسا نہیں ہو سکتا۔اُسی کی تائید سے ممکن ہے اور وہی تائید الہٰی اُس کی غذا بن جاتی ہے ۔کسی کے لئے دنیاوی نعمت غذا ہوتی ہے اور کسی کے لئے تائید الہٰی غذا۔۔

#کشف المحجوب

روزہ



حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب روزہ رکھے تو اپنے کان ، آنکھ ، زبان، ہاتھ اور جسم کے ہر عضو کا روزہ رکھے۔بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جن کا روزہ کچھ فائدہ مند نہیں ہوتا۔بجز اِس کے کہ وہ بھوکے اور پیاسے رہتے ہیں۔

#کشف المحجوب