11
﷽
بندے کی پوری ہستی غیر ہے اور جب وہ غیر کو نہ دیکھے گا تو خود کو بھی نہ دیکھے گا۔
کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
------------------------------------
9
﷽
اگر رسم کا نام تصوف ہوتا تو ریاضت و مجاہدے سے حاصل ہو جاتا۔ اور اگر علم کا نام تصوف ہوتا تو تعلیم سے تکمیل کی جا سکتی ۔ مگر یہ تو سراپا اخلاق ہے۔
کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
--------------------------------
15
﷽
ریا کاری زاہد کو نفاق میں جھونک دیتی ہے۔ اور ہوائے نفسانی صوفی کو پاوں پر کودواتی ہے
کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
-----------------------------------------------
17
﷽
اگر مسخروں کی جماعت اپنی مسخری کوبزرگی کی ریاضت و مجاہدے کے اندر ہزار بار پوشیدہ رکھے تو برزگوں کی ریاضت و مجاہدہ مسخری نہیں بن سکتی۔
کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
---------------------------------------------
19
﷽
جو شخص ظاہری چیزوں کو پسند کرتا ہے وہ حقیقت تک کبھی نہیں پہنچ سکتا۔
کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
-------------------------------------
21
﷽
جو آدمی فانی ہو گیا اس سے فنائے بشریت کی آفتیں دور ہو گئیں
کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
------------------------------------
23
﷽
میں نے سنا ہے کہ شہر مرادالردو میں ایک بزرگ ایسے تھے جن کا شمار متاخرین ارباب معانی میں تھا جس کا حال عمدہ اور خصلت نیک تھی۔ اُن کی گدڑی اور جائے نماز میں بے ترتیب پیوند لگے ہوئے تھے اور بچھووں نے اس میں بچے دے رکھے تھے۔
کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
----------------------------
25
﷽
ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس نے لباس کے ہونے یا نہ ہونے میں تکلف نہیں کیا اگر اللہ نے اُنہیں گدڑی دی تو زیب تن کرلی اگر قبا دی تو بھی پہن لیا اور اگر برہنہ رکھا تو برہنگی میں بھی صبر و شکر کیا۔
کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
--------------------
26
﷽
اولیاء کرام اس مقام تک فائز ہوتے ہیں جہاں کوئی مقام نہیں رہتا۔
کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
----------------------------
28
﷽
مسکین صاحبِ مال ہوتا ہے اور فقیر تارکِ مال
کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
--------------------------
30
﷽
طریقت میں صاحبِ مال ذلیل ہوتا ہے
کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
---------------------------
1
﷽
مال و دولت سے کنارہ کشی کرنیوالے عزیز ہیں کیونکہ تونگر کو مال پر اعتماد ہوتا ہے اور تہی دست کو خدا پر توکل ہوتا ہے۔
کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
---------------------------------------
3
﷽
ملامت میں خلوص و محبت کی بہت بڑی تاثیر اور لذتِ کامل پوشیدہ ہے اور اہلِ حق مخلوق کی ملامت کے لئے مخصوص ہیں۔
کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
-----------------------------------
4
﷽
غرور دراصل دو چیزوں سے پیدا ہوتا ہے۔
خلق کی عزت افزائی اور ان کی مدح و ستائش سے اور دوسرا یہ کہ اپنےہی افعال پر خوش ہونے سے۔
کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
-----------------------------
6
﷽
ہر شخص جو پسندیدہِ حق ہو گا خلق اسے پسند نہیں کرےگی۔
کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
--------------------------
8
﷽
جو اپنے جسم کو ریاضت و مجاہدے کے ذریعہ مشقت میں مشغول رکھے گا حق تعالیٰ اسے تکلیف نہیں دے گا۔
کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
----------------------------------
10
﷽
اولیاء اللہ کا مذہب ہے کہ ملامت ہی قرب و اختصاص کی نشانی ہے
کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
-------------------------------ٓ
12
﷽
آج کل ایسے لوگ بکثرت ہیں جو ردِ خلق کی صورت میں قبولِ خلق کے خواستگار ہیں۔
کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
---------------------------------
14
﷽
درویش کے دل میں مخلوقات کے گزر کی گنجائش کہاں ؟
کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
-----------------------------
﷽
ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ریاضت کے لئے نفس کو ملامت کرتا ہے۔ تا کہ خلقت میں رسوائی سے کیا پھٹے پرانے کپڑوں میں ہونے سو اُن کا نفس ادب سیکھے
------------------------------------------
﷽
صفتِ فقر تو یہ ہے کہ انسان تونگری چھوڑ کر فقر اختیار کرے نہ یہ کہ فقر میں مال و منال اور جاہ و حشم کا طالب ہو۔
-----------------------
﷽
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہہ کا رتبہ انبیاء علیہم السلام کے بعد ساری مخلوق سے افضل و مقدم ہے۔
----------------------------------
﷽
اللہ تعالی جب بندے کو کمال صدق پر فائز فرماتا ہے اور عزت و منزلت کے مقام پر متمکن فرماتا ہے تو بندہ صادق منتظر رہتا ہے کہ حق تعالی کی طرف سے کیا حکم ہوتا ہے۔ جیسا بھی اس پر حکم وارد ہے وہ اس پر قائم و برقرار رہتا ہے۔ اگر فرمان آئے کہ فقیر ہوجا تو فقیر ہوجا تا ہے اور اگر فرمان آئے کہ امیر ہوجا تو امیربن جاتا ہے۔
------------------------------
﷽
صوفیاء کرام نے ترک دنیا اور حرص و منزلت کے چھوڑنے کو فقر پر اور ترکِ ریاست کی تمنا کو اس لئے پسند فرمایا کہ دین میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہہ تمام مسلمانوں کے امامِ عام اور طریقت میں آپ تمام صوفیاء کے امامِ خاص ہیں۔
-----------------------------------
﷽
معاملات طریقت دراصل بلاوں کا تحمل ہے
--------------------------------------
﷽
اللہ تعالی نے بندے کو جس قدر توفیق مرحمت فرمائی ہے بندہ عمل میں اسی قدر مختار ہے۔
-------------------------
﷽
باطل سے راضہ ہونا بھی باطل ہے اور غصہ کی حالت میں حق کو ہاتھ سے چھوڑنا بھی باطل ہے۔مومن کی یہ شان نہیں کہ اپنے آپ کو باطل میں مبتلا کرے۔
----------------------------
﷽
اے طالبِ حق! اب تمہیں یہ دیکھنا چاہئے کہ کونسی چیز حجاب بنی ہوئی ہے، جو معرفتِ الٰہی میں مانع ہے اور یاد خدا سے تمہیں غافل بنا رہی ہے۔اسے ترک کردو تاکہ مکاشفہ ربانی حاصل ہو اور کوئی حجاب و مانع درمیان میں حائل نہ رہے۔ کیونکہ محجوب شخص کو زیب نہیں دیتا کہ وہ قرب کا دعوی کرے۔
------------------------------------------
﷽
دراصل خدا کی معرفت اُس کے غیر سے دستکش ہونے کا ہی نام ہے۔اور اسی علیحدگی سے ہی معرفت الٰہی حاصل ہوتی ہے۔
-------------------------
﷽
عارف باللہ مخلوق اور اس کی فکر سے بے نیاز ہوتا ہے اور اس کا دل ماسویٰ اللہ سے جدا ہو کر اللہ کے ساتھ واصل ہوجاتا ہے۔
------------------------
﷽
جس طرح بغیر روح کے جسم پتھرو جماد ہے اسی طرح بغیر اخلاص کے عمل ریت کا تودہ ہے۔
--------------------
﷽
رضا بندے کو غفلت سی چھڑاتی ہے اور غموں کے ہنجوں سے ہچاتی ہے۔اور غیر کے اندیشے کو دل سے نکالتی ہے اور تکلیفوں کی بندشوں سے نجات دیتی ہے۔ کیونکہ رضا کی صفت کی آزاد کرنا ہے۔
--------------------------------
﷽
رضائے بندہ رضائے خدا پر موقوف ہے۔
--------------------------------
﷽
جسکے دل میں حق تعالی کی محبت ہوتی ہے اس کے دل میں دنیاوی نعمتوں کی قدر و قیمت نہیں ہوتی۔ اور نہ اس کے دل میں محرومی پر کوئی رنج و ملال گزرتا ہے۔
-------------------------
﷽
نعمت تو اس وقت نعمت کہلاتی ہے جبکہ وہ نعمت دینے والے کی طرف راہنمائی کرے لیکن جب وہ اسے منعم سے محروم کردے تو ایسی نعمت سراپا آفت و بلا ہوتی ہے۔
--------------------
﷽
غیر حق پر راضی ہونا نقصان کا موجب اور حق تعالی سے راضی ہونا رضوان کا سبب ہے، اس لئے کہ اللہ سے راضی ہونا صریحاَ بادشاہت ہے اوراسی میں عافیت ہے۔
-------------------------------
﷽
جب بندہ اللہ تعالی کی قضا ہر راضی رہے گا تو یہ اسکی دلیل ہے کہ اللہ تعالی اس سے راضی ہے۔
-------------------------------------
﷽
زہد کے اپر اور بھی ایک منزل ہے جسے حاصل کرنے کی زاہد تمناکرتا ہے لیکن رضا سے اوپر کوئی منزل نہیں جس کی راضی تمنا کرے۔
-----------------------------------
﷽
رضا محبت کا نتیجہ ہے اور محبت کرنے والا محبوب کے ھر فعل پر راضی رہتا ہے۔
----------------------------
﷽
حال اس معنٰی کو کہتے ہیں جو اللہ تعالی کی طرف سے بندے کے دل پر طاری ہو اور اُسے وہ اپنے قدرت و اختیار سے دور نہ کر سکے اور نہ کسی محنت و مجاہدے کے حاصل کر سکتا ہو۔
------------------------------
﷽
جو کیفیت بغیر ریاضت و مجاہدے کے دل پر وارد ہو وہ اللہ تعالی کا لطف و فضل ہے۔ اس کا نام حال ہے۔
-----------------------------
﷽
حال اللہ تعالی کی بخشش اور اسکی عطا کے زمرے میں ہے۔ گویا مقام اول تا آخر کسبی ہے اور حال وہبی ہے۔
-----------------------------
﷽
صاحب مقام اپنے مجاہدے میں قائم اور صاحب حال اپنے وجود میں فانی ہے اور وہ اس حال کے ساتھ قائم ہے جسے حق تعالیٰ نے اس کے دل میں پیدا فرمایا۔
---------------------------------
﷽
رضا مقامات کی انتہا اور احوال کی ابتدا ہے۔ اور یہ ایسا مقام ہے جسکا ایک کنارہ ریاضت و مجاہدے کی طرف ہے اور دوسرا کنارہ محبت و اشتیاق کی سمت۔ اس سے اوپر اور کوئی مقام نہیں ہے۔ اور تمام مجاہدے اسی پر ختم ہوتے ہیں ۔ اسکی ابتدا کسبی اور انتہا وہبی ہے۔
---------------------------------
No comments:
Post a Comment