Saturday, October 18, 2014

درویش کے لئے ضروری ہے کہ سنت کی اتباع کے وقت دل کو دنیا اور شغل حرام سے دور رکھے کیونکہ درویش کی ہلاکت اس کےدل کی خرابی میں ہے۔جس طرح کہ تونگر کی خرابی گھر اور خاندان کی خرابی میں مضمر ہے۔مالدار کی خرابی کا تو بدل ممکن ہے لیکن درویش کی خرابی کا کوئی بدل ممکن نہیں۔

#کشف المحجوب
حضرت احمد حماد سرخسی رحمتہ اللہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا کہ کیا آپکو نکاح کی ضرورت پیش آئی ؟
فرمایا نہیں۔
پوچھا کیوں؟
فرمایا اس لئے کہ میں اپنے احوال سے یا تو غائب ہوتا ہوں یا اپنے سے حاضر، جب غائب ہوتا ہوں تو مجھے دو جہان کی کوئی چیز یاد نہیں رہتی اور جب حاضر ہوتا ہوں تو میں اپنے نفس پر ایسا قابو رکھتا ہوں کہ جب روٹی ملے تو وہ سمجھتا ہے کہ ہزار حوریں مل گئیں۔دل کی مشغولیت بہت بڑا کام ہے جس طرح چاہو اسے رکھو۔

#کشف المحجوب
جس چیز پر دسترس نہ ہو اُس کا اندیشہ باطل ہے۔

#کشف المحجوب
حال کے بارے میں پوچھنا محال ہے اس لئے کہ حال کی تعبیر نا ممکن ہے۔

#کشف المحجوب
حضرت شبلہ رحمتہ اللہ علیہ اپنی مناجات میں کہتے ہیں کہ اے خدا اگر تو آسمان کو میرے گلے کا طوق اور زمین کو میرے پاوں کی زنجیر اور عالم کو میرے خون کا پیاسا بنا دے تب بھی میں تیری بارگاہ سے نہ ہٹوں گا۔
حضرت داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے مرشد(حضرت شیخ ابوالفضل محمد بن حسن ختلی) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک سال جنگل میں اولیاء کا اجتماع ہوا۔ میرے مرشد حضرت حضری رحمتہ اللہ علیہ  مجھے اپنے ہمراہ وہاں لے گئے۔ میں نے وہاں ایک جماعت دیکھی جو تخت کے نیچے تھی اور ایک جماعت دیکھی جو تخت کے اوپر بیٹھی تھی۔کوئی اُڑتا آرہا تھا اور کوئی کسی طریق سے۔میرے مرشد نے کسی کی طرف التفات نہ کیا یہاں تک کہ ایک جوان کو میں نے دیکھا جس کی جوتیاں پھٹی ہوئی تھیں اور عصا شکستہ تھا۔پاوں نکمے بدن جھلسا ہوا جسم کمزور و لاغر۔جب وہ نمودار ہوا تو حضرت حضری رحمتہ اللہ دوڑ کر اس کے پاس پہنچے اور اسے بلند تر مقام پر بٹھایا۔فرماتے ہیں کہ میں یہ دیکھ کر حیرت میں پڑگیا۔اس کے بعد شیخ سے دریافت کیا تو آُنہوں نے فرمایا یہ بندہ ایسا صاحبِ ولی ہے کہ وہ ولایت کا تابع نہیں بلکہ ولایت اُس کے تابع ہے۔وہ کرامتوں کی طرف توجہ نہیں کرتا۔

#کشف المحجوبا
محبت میں کم سے کم درجہ اپنے اختیار کی نفی ہے۔کیونکہ حق تعالی کا اختیار ازلی ہے اس کی نفی ممکن نہیں اور بندے کا اختیار عارضی ہےاس کی نفی جائز ہے۔

#کشف المحجوب
لازم ہے کہ عارضی اختیار کو پایمال کیا جائے تا کہ ازلی اختیار قائم و باقی رہے۔

#کشف المحجوب
رات دوستوں کی خلوت کا وقت ہے اور دن بندوں کی خدمت کا وقت ہے۔


حضرت سہل بن عبداللہ تستری رحتمہ اللہ علیہ کا واقعہ ہے کہ اُن کے یہاں ایک فرزند پیدا ہوا وہ بچپن میں اپنی ماں سے کھانے کے لئے جو چیز مانگتا اس کی ماں کہتی خدا سے مانگ۔
وہ بچہ محراب میں چلا جاتا سجدہ کرتا اس کی ماں چھپا کر اُس کی خواہش پوری کر دیتی۔بچے کو معلوم تک نہ ہوتا کہ یہ ماں نے دیاہے۔یہاں تک کہ یہ اس کی عادت بن گئی۔ایک دن بچہ مدرسہ سے آیا تو اُس کی ماں گھر میں موجود نہ تھی۔عادت کے مطابق سر سجدہ میں رکھ دیا ۔اللہ تعالی نے جو اُس کی خواہش تھی پوری کر دی۔ماں جب آئی تو اُس نے پوچھا اے بیٹے یہ چیز کہاں سے آئی ؟
اُس نے کہا وہیں سے جہاں سے روز آتی ہے۔

#کشف المحجوب
حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس جب حضرت ابو بکر شبلی رحمتہ اللہ علیہ آئے تو حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا اے ابو بکر تمہارے دماغ میں ابھی تک گھمنڈ ہے کہ میں خلیفہ کے خاص الخاص کا فرزند ہوں اور سامرہ کا امیر ہوں۔یہ تمہارے کام ناں آئے گا۔جب تک کہ تم بازار میں جا کر ہر ایک کے سامنے دستِ سوال نہ  پھیلاو گے اس وقت تک اپنی قدرو قیمت نا جان سکو گے۔
چنانچہ اُنہوں نے ایسا ہی کیا روزانہ بازار میں اُن کی قدر و قیمت گھٹتی گئی یہاں تک کہ چھ سال میں اس حال کوپہنچ گئے کہ اُنہیں بازار میں کسی نے کچھ نہ دیا۔اس وقت حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا حال بیان کیا۔آپ نے فرمایا اے ابو بکر اب تم اپنی قدروقیمت کو پہچانو کہ لوگوں کی نظر میں تمہاری کوئی قیمت نہیں ہے۔لہذا تم اُن لوگوں کو دل میں جگہ نہ دو اور ان کی کچھ منزلت نہ سمجھو۔