Monday, September 22, 2014
حضرت حارث محاسبی رحمتہ اللہ علیہ نے چالیس سال تک دن رات کے کسی حصہ میں دیوار سے ٹیک لگا کر کمر سیدھی نہیں کی اور دو زانو کے سوا کسی اور حالت میں نہ بیٹھے۔ لوگوں نے عرض کی آپ اتنی تکلیف و مشقت کیوں برداشت کرتے ہیں؟
فرمایا مجھے شرم آتی ہے کہ میں حق تعالی کے مشاہدے میں اس طرح نہ بیٹھوں جس طرح بندہ بیٹھتا ہے۔
#کشف المحجوب
حضرت حارث محاسبی رحمتہ اللہ علیہ نے چالیس سال تک دن رات کے کسی حصہ میں دیوار سے ٹیک لگا کر کمر سیدھی نہیں کی اور دو زانو کے سوا کسی اور حالت میں نہ بیٹھے۔ لوگوں نے عرض کی آپ اتنی تکلیف و مشقت کیوں برداشت کرتے ہیں؟
فرمایا مجھے شرم آتی ہے کہ میں حق تعالی کے مشاہدے میں اس طرح نہ بیٹھوں جس طرح بندہ بیٹھتا ہے۔
#کشف المحجوب
جو شخص با وضو سوئے اللہ تعالی اُس کی روح کو اجازت فرماتا ہے کہ وہ عرش کا طواف کرے اور وہاں اللہ تعالی کو سجدہ کرے۔
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
#کشف المحجوب
جب محب اپنی آنکھ کو موجودات کے دیکھنے سے بند کرتا ہے تو وہ يقيناً اپنے دل میں موجودات کے خالق کا مشاہدہ کرتا ہے۔
#کشف المحجوب
حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ سے جب لوگوں نے عمر دریافت کی تو فرمایا چار سال۔لوگوں نے پوچھا یہ کس طرح ؟
فرمایا گزشتہ ستر سال کی عمر حجاب و غیبت میں گزری ہے اور میں نے مشاہدہ نہیں کیا۔ صرف یہ چار سال ہیں جس میں مشاہدہ کیا ہے۔زمانہ حجاب کی عمر قابلِ شمار نہیں۔۔۔
#کشف المحجوب
حضرت شبلی رحمتہ اللہ علیہ اپنی دعا میں کہا کرتے تھے کہ
'' اے خدا جنت و دوزخ کو اپنے غیب کے خزانوں میں پوشیدہ رکھ اور اِن کی یاد لوگوں کے دلوں سے فراموش کر دے تا کہ ہم بغیر کسی واسطہ کے خالص تیری عبادت کر سکیں ''
#کشف المحجوب
حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
'' اللہ تعالی کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر دنیا و آخرت میں وہ اللہ تعالی سے ایک لمحہ کے لئے محجوب ہو جائیں تو وہ مرتد ہو جائیں''
#کشف المحجوب
ایک صاحبِ مرتبہ بزرگ کو میں نے دیکھا کہ وہ بیابان سے فاقہ زدہ اور سفر کی صعوبتیں اُٹھائے ہوئے بازارِ کوفہ میں پہنچا۔اُس کے ہاتھ میں ایک چڑیا تھی اور آواز لگاتا تھا کہ مجھے اس چڑیا کی خاطر کچھ دے دو۔
لوگوں نے کہا اے شخص یہ کیا کہتے ہو ؟
اُس نے کہا یہ محال ہے کہ میں یہ کہوں کہ مجھے خدا کے نام پر کچھ دے دو، دنیا کے لئے ادنیٰ چیز کا ہی وسیلہ لایا جا سکتا ہے۔چونکہ دنیا قلیل ہے ۔
حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میرا ایک رفیق تھا ، اللہ تعالی نے اُسے بلا لیا اور دنیاوی نعمت سے اُخروی نعمتوں میں پینچا دیا۔میں نے آُسے خواب میں دیکھا تو اُس سے پوچھا کہ اللہ تعالی نے تمہارے ساتھ کیا کیا ؟
اُس نے کہا مجھے بخش دیا۔میں نے پوچھا کس بنا پر ؟
اُس ے کہا کہ اللہ تعالی نے مجھے اُٹھا کر فرمایا اے میرے بندے ، تو نے بخیلوں اور کمینوں کی بڑی اذیتیں برداشت کی ہیں۔ تو نے اُن کے آگے ہاتھ بھیلایا پھر صبر سے کام لیا۔اس لئے تجھے بخشتا ہوں۔
کسی دنیا دار نے حضرت رابعہ عدویہ رحمتہ اللہ علیہا سے کہا
اے رابعہ مانگو میں تمہیں دوں گا۔
''اُنہوں نے جواب دیا اے شخص، جبکہ میں دنیا کے پیدا کرنے والے سے حیا کرتی ہوں کہ دنیا اُس سے مانگوں ، تو کیا اپنے جیسے سے مانگنے میں مجھے شرم نہ آئے گی''
#کشف المحجوب
Subscribe to:
Comments (Atom)