Thursday, April 12, 2018

11



بندے کی پوری ہستی غیر ہے اور جب وہ غیر کو نہ دیکھے گا تو خود کو بھی نہ دیکھے گا۔

کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
------------------------------------



اگر رسم کا نام تصوف ہوتا تو ریاضت و مجاہدے سے حاصل ہو جاتا۔ اور اگر علم کا نام تصوف ہوتا تو تعلیم سے تکمیل کی جا سکتی ۔ مگر یہ تو سراپا اخلاق ہے۔

کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ

--------------------------------
15



ریا کاری زاہد کو نفاق میں جھونک دیتی ہے۔ اور ہوائے نفسانی صوفی کو پاوں پر کودواتی ہے

کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ

-----------------------------------------------
17



اگر مسخروں کی جماعت اپنی مسخری کوبزرگی کی ریاضت و مجاہدے کے اندر ہزار بار پوشیدہ رکھے تو برزگوں کی ریاضت و مجاہدہ مسخری نہیں بن سکتی۔

کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ

---------------------------------------------
19  



جو شخص ظاہری چیزوں کو پسند کرتا ہے وہ حقیقت تک کبھی نہیں پہنچ سکتا۔

کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ

-------------------------------------
21



جو آدمی فانی ہو گیا اس سے فنائے بشریت کی آفتیں دور ہو گئیں

کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ

------------------------------------
23



میں نے سنا ہے کہ شہر مرادالردو میں ایک بزرگ ایسے تھے جن کا شمار متاخرین ارباب معانی میں تھا جس کا حال عمدہ اور خصلت نیک تھی۔ اُن کی گدڑی اور جائے نماز میں بے ترتیب پیوند لگے ہوئے تھے اور بچھووں نے اس میں بچے دے رکھے تھے۔

کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ

----------------------------
25



ایک طبقہ ایسا بھی ہے  جس نے لباس کے ہونے یا  نہ ہونے میں تکلف نہیں کیا اگر اللہ نے اُنہیں گدڑی دی تو زیب تن کرلی اگر قبا دی تو بھی پہن لیا اور اگر برہنہ رکھا تو  برہنگی میں بھی صبر و شکر کیا۔

کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ

--------------------
26



اولیاء کرام اس مقام تک فائز ہوتے ہیں جہاں کوئی مقام نہیں رہتا۔

کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ

----------------------------
28



مسکین صاحبِ مال ہوتا ہے اور فقیر تارکِ مال

کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ

--------------------------
30



طریقت میں صاحبِ مال ذلیل ہوتا ہے

کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ

---------------------------
1



مال و دولت سے کنارہ کشی کرنیوالے عزیز ہیں کیونکہ تونگر کو مال پر اعتماد ہوتا ہے اور تہی دست کو خدا پر توکل ہوتا ہے۔

کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ

---------------------------------------
3



ملامت میں خلوص و محبت  کی بہت بڑی تاثیر  اور لذتِ کامل پوشیدہ ہے اور اہلِ حق مخلوق کی ملامت کے لئے مخصوص ہیں۔

کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ

-----------------------------------
4



غرور دراصل دو چیزوں سے پیدا ہوتا ہے۔
 خلق کی عزت افزائی اور ان کی مدح و ستائش سے اور دوسرا یہ کہ اپنےہی افعال پر خوش ہونے سے۔

کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ

-----------------------------
6



ہر شخص جو پسندیدہِ حق ہو گا خلق اسے پسند نہیں کرےگی۔

کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ

--------------------------
8



جو اپنے جسم کو ریاضت و مجاہدے کے ذریعہ مشقت میں مشغول رکھے گا حق تعالیٰ اسے تکلیف نہیں دے گا۔

کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ

----------------------------------

10



اولیاء اللہ کا مذہب ہے کہ ملامت ہی قرب و اختصاص کی نشانی ہے

کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ

-------------------------------ٓ
12



آج کل ایسے لوگ بکثرت ہیں جو ردِ خلق کی صورت میں قبولِ خلق کے خواستگار ہیں۔

کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ

---------------------------------
14


﷽ 

درویش کے دل میں مخلوقات کے گزر کی  گنجائش کہاں ؟

کشف المحجوب
داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ

-----------------------------


ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو  ریاضت کے لئے نفس کو ملامت کرتا ہے۔ تا کہ خلقت میں رسوائی سے کیا پھٹے پرانے کپڑوں میں ہونے سو اُن کا نفس ادب سیکھے


------------------------------------------


صفتِ فقر تو یہ ہے کہ انسان تونگری چھوڑ کر فقر اختیار کرے نہ یہ کہ فقر میں مال و منال اور جاہ و حشم کا طالب ہو۔



-----------------------



سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہہ کا رتبہ انبیاء علیہم السلام کے بعد ساری مخلوق سے افضل و مقدم ہے۔


----------------------------------


اللہ تعالی جب بندے کو کمال صدق پر فائز فرماتا ہے اور عزت و منزلت کے مقام پر متمکن فرماتا ہے تو بندہ صادق منتظر رہتا ہے کہ حق تعالی کی طرف سے کیا حکم ہوتا ہے۔ جیسا بھی اس پر حکم وارد ہے وہ اس پر قائم و برقرار رہتا ہے۔ اگر  فرمان آئے کہ فقیر ہوجا تو فقیر ہوجا تا ہے اور اگر فرمان آئے کہ امیر ہوجا تو امیربن جاتا ہے۔

------------------------------


صوفیاء کرام نے ترک دنیا اور حرص و منزلت کے چھوڑنے کو فقر پر اور ترکِ ریاست کی تمنا کو اس لئے پسند فرمایا کہ دین میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہہ تمام مسلمانوں کے امامِ عام اور طریقت میں آپ تمام صوفیاء کے امامِ خاص ہیں۔

-----------------------------------


معاملات طریقت دراصل بلاوں کا تحمل ہے


--------------------------------------


اللہ تعالی نے بندے کو جس قدر توفیق مرحمت فرمائی ہے بندہ عمل میں اسی قدر مختار ہے۔

-------------------------


باطل سے راضہ ہونا بھی باطل ہے اور غصہ کی حالت میں حق کو ہاتھ سے چھوڑنا بھی باطل ہے۔مومن کی یہ شان نہیں کہ اپنے آپ کو باطل میں مبتلا کرے۔


----------------------------


اے طالبِ حق! اب تمہیں یہ دیکھنا چاہئے کہ کونسی چیز حجاب بنی ہوئی ہے، جو معرفتِ الٰہی میں مانع ہے اور یاد خدا سے تمہیں غافل بنا رہی ہے۔اسے ترک کردو تاکہ مکاشفہ ربانی حاصل ہو اور کوئی حجاب و مانع درمیان میں حائل نہ رہے۔ کیونکہ محجوب شخص کو زیب نہیں دیتا کہ وہ قرب کا دعوی کرے۔

------------------------------------------


دراصل خدا کی معرفت اُس کے غیر سے دستکش ہونے کا ہی نام ہے۔اور اسی علیحدگی سے ہی معرفت الٰہی حاصل ہوتی ہے۔

-------------------------


عارف باللہ مخلوق اور اس کی فکر سے بے نیاز ہوتا ہے اور اس کا دل ماسویٰ اللہ سے جدا ہو کر اللہ کے ساتھ واصل ہوجاتا ہے۔

------------------------


جس طرح بغیر روح کے جسم پتھرو جماد ہے اسی طرح بغیر اخلاص کے عمل ریت کا تودہ ہے۔

--------------------


رضا بندے کو غفلت سی چھڑاتی ہے اور غموں کے ہنجوں سے ہچاتی ہے۔اور غیر کے اندیشے کو دل سے نکالتی ہے اور تکلیفوں کی بندشوں سے نجات دیتی ہے۔ کیونکہ رضا کی صفت کی آزاد کرنا ہے۔

--------------------------------


رضائے بندہ رضائے خدا پر موقوف ہے۔


--------------------------------


جسکے دل میں حق تعالی کی محبت ہوتی ہے اس کے دل میں دنیاوی نعمتوں کی قدر و قیمت نہیں ہوتی۔ اور نہ اس کے دل  میں محرومی پر کوئی رنج و ملال گزرتا ہے۔

-------------------------


نعمت تو اس وقت نعمت کہلاتی ہے جبکہ وہ نعمت دینے والے کی طرف راہنمائی کرے لیکن جب وہ اسے منعم سے محروم کردے تو ایسی نعمت سراپا آفت و بلا ہوتی ہے۔

--------------------


غیر حق پر راضی ہونا نقصان کا موجب اور حق تعالی سے راضی ہونا رضوان کا سبب ہے، اس لئے کہ اللہ سے راضی ہونا صریحاَ بادشاہت ہے اوراسی میں عافیت ہے۔


-------------------------------


جب بندہ اللہ تعالی کی قضا ہر راضی رہے گا تو یہ اسکی دلیل ہے کہ اللہ تعالی اس سے راضی ہے۔


-------------------------------------


زہد کے اپر اور بھی ایک منزل ہے جسے حاصل کرنے کی زاہد تمناکرتا ہے لیکن رضا سے اوپر کوئی منزل نہیں جس کی راضی تمنا کرے۔

-----------------------------------


رضا محبت کا نتیجہ ہے اور محبت کرنے والا محبوب کے ھر فعل پر راضی رہتا ہے۔


----------------------------


حال اس معنٰی کو کہتے ہیں جو اللہ تعالی کی طرف سے بندے کے دل پر طاری ہو اور اُسے وہ اپنے قدرت و اختیار سے دور نہ کر سکے اور نہ کسی محنت و مجاہدے کے حاصل کر سکتا ہو۔

------------------------------


جو کیفیت بغیر ریاضت و مجاہدے کے دل پر  وارد ہو وہ اللہ تعالی کا لطف و فضل ہے۔ اس کا نام حال ہے۔

-----------------------------


حال اللہ تعالی کی بخشش اور اسکی عطا کے زمرے میں ہے۔ گویا مقام اول تا آخر کسبی ہے اور حال وہبی ہے۔


-----------------------------


صاحب مقام اپنے مجاہدے میں قائم اور صاحب حال اپنے وجود میں فانی ہے اور وہ اس حال کے ساتھ قائم ہے جسے حق تعالیٰ نے اس کے دل میں پیدا فرمایا۔

---------------------------------


رضا مقامات کی انتہا اور احوال کی ابتدا ہے۔ اور یہ ایسا مقام ہے  جسکا ایک کنارہ ریاضت و مجاہدے کی طرف ہے اور دوسرا کنارہ محبت و اشتیاق کی سمت۔ اس سے اوپر اور کوئی مقام نہیں ہے۔ اور تمام مجاہدے اسی پر ختم ہوتے ہیں ۔ اسکی ابتدا کسبی اور انتہا وہبی ہے۔


---------------------------------




Sunday, March 12, 2017

10



جس کام میں نفسانی اغراض شامل ہو جائیں تو اس کام سے برکت  جاتی رہتی ہے

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ
-------------------
11



کسی کام میں نفسانی دخل یہ ہے کہ بندہ اپنے کام میں حق تعالی کی خوشنودی کو ملحوظ نہ رکھے۔

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

------------------------
12



نفس کے فتنوں کی کوئی حد و غایت نہیں ہے اور نہ ہی اس کی ہوس کاریوں کا کوئی شمار ہے

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

------------------------------
13



حقائق اشیاء کے معانی و مطالب اُسی ہر کھلتے اور منکشف ہوتے ہیں جس کو خاص اُسی لئے پیدا کیا گیا ہو۔ اس کے ماسوا کے لئے یہ ممکن نہیں ہے۔

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

----------------
14



وہ لوگ جن کی سرشت و عادت ہی انکارِ حق ہو اور باطل پر قائم و برقرار رہنا ہی جن کا شعار ہو،  وہ مشاہدہ حق کی راہ سے ہمیشہ محروم رہیں گے۔

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

----------------------
15



اللہ تعا لی نے ہمیں ایسے زمانے میں پیدا فرمایا ہے  کہ لوگوں نے اپنی خواہشات کا نام شریعت، حبِ جاہ کا نام عزت،  تکبر کا نام علم،  اور ریا کاری کا نام تقوٰی رکھ لیا ہے۔ اور دل میں کینہ چھپانے کا نام حلم، مجادلہ کا نام مناظرہ،  محاربہ و بیوقوفی کا نام عظمت ، نفاق کا نام وفاق،  آرزو و تمنا کا نام زہد،  ہذیانِ طبع کا نام معرفت،  نفسانیت کا نام محبت، الحاد کا نام فقر،  انکار و وجود کا نام صفوت، بے دینی و زندقہ کا نام فنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو ترک کرنے کا نام طریقت رکھ لیا ہے۔

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

--------------------------------- 
16



یار دکھو کہ اللہ تعالی نے اس جہان کو محلِ حجاب بنایا ہے تاکہ اپنے اپنے عالم میں ہر طبیعت حق تعالی کے فرمان سے سکون و قرار حاصل کر سکے اور اپنے وجود کو اُسکی توحید میں گم کر دے

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

---------------------------
17



اس جہان میں روحیں اپنے جسموں کے ساتھ ملحق ہو کر  مقامِ اِخلاص سے ہٹ کر ایسی مغرور ہو گئیں ہیں کہ اِن کی عقلیں اسرارِ الہی کے ادراک سے عاجز اور وہ روحیں قربِ حق سے مستور و محجوب ہو گئی ہیں۔ جس کا انجام یہ ہوا کہ آدمی اپنی ہستی کے سبب غفلت کی تاریکی میں غرق ہو گیا اور مقام خصوصیت میں اپنی ہستی کے حجاب کے سبب عیب دار بن گیا۔

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

-------------------------------
18



تھوڑے سے علم کے لئے بہت ذیادہ عمل درکار ہے۔ علم و عمل دونوں باہم  لازم و ملزوم ہیں

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

-----------------------
19



پہلے اپنے علم پر عمل کرو تاکہ اس کے بعد اس کی برکت سے دیگر علوم کی راہیں تم پر کھل جائیں

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

---------------------
20



وہ شخص جو علم کو دنیاوی عزت و جاہ کی غرض سے حاصل کرتا ہے درحقیقت وہ عالم کہلانے کا ہی مستحق نہیں ہے۔

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

---------------------
21


علم بذاتِ خود بلند مرتبہ ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کوئی مرتبہ ہے ہی نہیں

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

-------------------------
22



بندے کا علم وقت کے ساتھ فرض کیا گیا ہے۔ یعنی جس وقت پر جس علم کی ضرورت ہو خواہ وہ ظاہری ہو یا باطنی اس کا حاصل کرنا فرض کیا گیا ہے۔

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

-------------
23



ظاہر حال باطنی کیفیت کے بغیر نفاق ہے

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

-------------------
24



ظاہر شریعت بغیر باطن کے ناقص و نا مکمل۔  اور باطن بغیر ظاہر کے ہوا و ہوس۔ 

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

----------------------
25



جس کو معرفت کا علم نہیں اُسکا دل جہل سے مردہ ہے

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

------------------------------
26



کافروں کے دل مردہ ہیں کیونکہ وہ خدا کی معرفت سے بے بہرہ ہیں۔ اہلِ غفلت کا دل بیمار ہے کیونکہ وہ اللہ کے فرمان سے بہت دور ہے۔

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

-------------------------
27



غافل علماء وہ ہیں جنہوں نے دنیا کو اپنے دل کا قبلہ بنا رکھا ہے اور شریعت میں آسانی کے متلاشی رہتے ہیں۔ بادشاہوں کی پرستش کرتے اور ظالموں کا دامن پکڑتے ہیں۔

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

--------------------------
28



جاہل صوفیاء وہ ہیں جن کا کوئی شیخ و مرشد نہ ہو۔ اور کسی بزرگ سے اُنہوں نے ادب حاصل نہ کیا ہو ، مخلوقِ خدا کے درمیان بن بلائے مہمان کی طرح خود بخود پہنچ گئے ہوں، اُنہوں نے زمانے کی ملامت کا مزہ نہ چکھا ہو۔

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

----------------------------------
29



جو شخص تحصیل علم نہیں کرتا اور اپنے جہل پر مصر رہتا ہے ہمیشہ مشرک رہتا ہے

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

-------------------
30



راہِ حق میں درویشی کا بڑا مرتبہ ہے اور درویشوں کو بڑے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

-------------------
31



بارگاہِ احدیت میں فقراء کا بڑا مقام و درجہ ہے۔ خدا نے اِن کو خاص منزلت و مرحمت سے نوازا ہے

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

------------------------------
1



فقر و مسکینی کی نرالی شان ہے اور اس کی رسم عجیب ہے۔ حقیقی رسم و اضطرار ہے۔ اس کی حقیقت اقبال اختیاری یعنی بخندہ پیشانی افلاس و اضطرار کو قبول کرنا ہے

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

----------------------------------------
2



حق تعالی کے اولیاء اور اُس کے محبوبوں کی زندگیاں الطاف خفی میں چھپی ہوتی ہیں

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

-----------------------------------------
3



یہ دنیا نا فرمانوں کی جگہ ہے اس کے اسباب سے تعلق رکھنا صحیح نہیں ہو سکتا

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

-----------------
4



فقر کے ترازو  کے پلڑے میں دونوں جہان مچھر کے پر کے برابر  بھی وزن نہیں رکھتے

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

-----------------------------------------------
5



درویش غافل نہیں ہوتا

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

--------------------------
6



راضی ہونا حصولِ خلعت کے لائق بناتا ہے

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

------------------------------
7



حقیقی عزت وہی ہے جس سے بندہ کی بارگاہِ حق میں حضوری ہو، اورذلیل و حقیر ہے وہ شے جس سے بندہ حق سے دور ہو۔

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

--------------------------------
8




فقر کی بلائیں حضوری کی علامت ہیں

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

----------------------

9



غنا و تونگری کی راحت دوری و غیبت  کا نشان ہے

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

----------------------
10



جب خلقِ خدا تمہیں درویش کہہ کر پکارے اور وہ تمہارا حق ادا کرے تو تم اپنی درویشی کے حق کا جائزہ لیا کرو کہ یہ حق کس طرح ادا ہو رہا ہے۔

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

-----------------------------
11



لوگوں میں وہ شخص انتہائی پست و ذلیل ہے کہ لوگ اسے درویش جانیں اور وہ خود ایسا نہ ہو۔

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

----------------------------
12



مشائخِ طریقت اور عارفان حقیقت کو صوفی کہتے ہیں اور مریدین و متعلقین اور سالکینِ معرفت کو متصوف

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

-------------------------
13



صوفی وہ ہے جو خود کو فنا کر کے حق کے ساتھ مل جائے اور خواہشاتِ نفسانیہ کو مار کر حقیقت سے پیوستہ ہو جائے۔

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

-------------------------------
14



جسے وصل نصیب ہو گیا  وہ مقصود کو پانے اور مراد کو حاصل کرنےمیں اپنے نفسانی قصد و ارادہ سے بے نیاز ہو گیا۔

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

----------------------------------------
15



باطن کو حق تعالی کی مخالفت سے محفوظ رکھو کیونکہ دوستی موافقت کا نام ہے اور موافقت مخالفت کی ضد ہے۔

کشف المحجوب
سید علی ہجویریؒ

------------------------
16



حق تعالی کے ساتھ نیک خوئی یہ ہے کہ اُس کی قضا و قدر پر راضی رہے۔ اور خلق کے ساتھ نیک خوئی یہ ہے کہ حق تعالی کی رضا کی خاطر مخلوق کی صحبت کا بار  برداشت کرے۔

کشف المحج