اس دل پر تعجب ہے جو کلام الہٰی سن کر اپنی جگہ قائم رہے اور اس جان ہر حیرانی ہے جو کلام خدا سن کر جسم سے نہ نکلے۔
حضرت حسین بن منصور حلاج رحمتہ اللہ #کشف المحجوب
جسم اور دل کی بیک وقت آزمائیش ہوتی ہے۔جو خدا کی طرف سے بندہ مومن کے لئے ہوتی ہے اور امتحان صرف دلِ مومن کی آزمائیش کا نام ہے۔بلا اور آزمائیش مومن کے لئے نعمت ہوتی ہے جس کا ظاہر تکلیف دہ اور اصل میٹھا پھل ہوتا ہے۔
شریعت کا قیام حقیقت کے وجود کے بغیر محال ہے اور حقیقت کا قیام شریعت کی حفاظت کے بغیر بھی محال ہے۔اسکی مثال اس شخص کی مانند ہے جو روح کو ساتھ زندہ ہو۔جب روح اس سے جدا ہوتی ہے تو وہ شخص مردہ ہو جاتا ہے۔اور روح جب تک رہتی ہے تو اسکی قدر و قیمت ایک دوسرے کے ساتھ رہنے تک ہے۔۔
علم الیقین علماء کا درجہ ہے کہ وہ احکام و اوامر پر استقامت رکھتے ہیں اور عین الیقین عارفوں کا مقام ہے کہ موت کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں اور حق الیقین محبوبانِ خدا کی فنا کا نام ہےکہ وہ تمام موجودات سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔
علم الیقین مجاہدے سے ہوتا ہے عین الیقین انس و محبت سے اور حق الیقین مشاہدے سے۔اور یہ کہ ایک عام ہے دوسرا خاص تیسرا خاص الخاص۔