Thursday, August 28, 2014
حضرت حارث محاسبی رحمتہ اللہ علیہ نے چالیس سال تک دن رات کے کسی حصہ میں دیوار سے ٹیک لگا کر کمر سیدھی نہیں کی اور دو زانو کے سوا کسی اور حالت میں نہ بیٹھے۔ لوگوں نے عرض کی آپ اتنی تکلیف و مشقت کیوں برداشت کرتے ہیں؟
فرمایا مجھے شرم آتی ہے کہ میں حق تعالی کے مشاہدے میں اس طرح نہ بیٹھوں جس طرح بندہ بیٹھتا ہے۔
اللہ تعالی اُس بندے پر اِظہارِ خوشنودی فرماتا ہے جو بحالتِ سجدہ سو جاتا ہے۔اور اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے میرے بندے کی طرف دیکھو اُس کی روح مجھ سے ہمراز ہے اور اُس کا بدن عبادت کے فرش پر ہے۔
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
#کشف المحجوب
حضرت ابو بکر شبلی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک مدعی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ '' خاموشی ، بولنے سے بہتر ہے''
اِس پر حضرت شبلی نے فرمایا کہ '' تیرا خاموش رہنا تیرے بولنے سے بہتر ہے اور میرا بولنا میرے خاموش رہنے سے بہتر ہے۔ کیونکہ تیرا بولنا لغو ہے اور تیری خاموشی ٹھٹھا اور میرا بولنا خاموشی سے اِس لئے بہتر ہے کہ میری خاموشی میں حلم و بردباری ہے اور کلام میں علم و دانائی ہے ''
#کشف المحجوب
جو شخص با وضو سوئے اللہ تعالی اُس کی روح کو اجازت فرماتا ہے کہ وہ عرش کا طواف کرے اور وہاں اللہ تعالی کو سجدہ کرے۔
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
#کشف المحجوب
#کشف المحجوب
Thursday, August 14, 2014
ایک شخص حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہما کے دروازے پر آیا اور اُس نے عرض کیا اے فرزندِ رسول، مجھ پر چار سو درہم قرض ہیں۔ حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہما نے حکم دیاکہ اسے چار سو درہم دئے جائیں، اور خود روتے ہوئے اندر تشریف لے گئے۔تو لوگوں نے پوچھا اے فرزندِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! رونے کی کیا وجہ ہے ؟
آپ نے فرمایا اس لئے روتا ہوں کہ میں نے اُس شخص کے حال کی جستجو میں کوتاہی کی ہے یہاں تک کہ میں نے اسے سوال کی ذلت میں ڈال دیا۔
#کشف المحجوب
حضرت خلیل اللہ علیہ سلام اُس وقت تک کھانا نوش نہ فرماتے تھے جب تک کہ کوئی مہمان موجود نہ ہوتا۔ایک مرتبہ تین دن گزر گئے کوئی مہمان نہ آیا۔اتفاق سے ایک کافر کا گزر آپ کے دروازے کے آگے سے ہوا۔ آپ علیہ سلام نے اس سے پوچھا تو کون ہے ؟
اس نے کہامیں کافر ہوں
آپ نے فرمایا تو میری مہمانی اور عزت افزائی کے قابل نہیں ہے۔
اُسی وقت حق تعالی نے وحی نازل فرمائی کہ اے خلیل ،جسے میں نے ستر(70) سال تک پالا تم نے اُسے ایک روٹی تک نہ دی۔
#کشف المحجوب
حضرت شبلی رحمتہ اللہ علیہ کو دیوانگی کے الزام میں شفا خانہ میں داخل کر کے محبوس کر کے کچھ لوگ بغرض ملاقات اُن کے پاس گئے۔آپ نے پوچھا تم کون ہو؟
لوگوں نے کہا کہ ہم آپ سے محبت کرنے والے ہیں
یہ سن کر آپ نے پتھر مارنے کے لئے اُٹھایا۔لوگ سب بھاگ کھڑے ہوئے۔اس وقت آپ نے فرمایا کہ اگر تم مجھ سے سچی محبت کرنے والے ہوتے تو مار کے ڈر سے نہ بھاگتے۔ اس لئے کہ محبین ، محبوب کی بلا سے بھاگا نہیں کرتے۔
#کشف المحجوب
توبہ
حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
'' توبہ دو طرح کی ہوتی ہے ایک توبہ انابت دوسری توبہ استحیاء۔ توبہ انابت یہ ہے کہ بندہ عذابِ الہٰی کے خوف سے توبہ کرے اور توبہ استحیاء یہ ہے کہ بندا حق تعالی کے فضل و کرم سے حیا کر کے توبہ کرے''
حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ جب بوڑھے ہو گئے تو اُس بڑھاپے میں بھی جوانی کے کسی ورد کو نا چھوڑا۔لوگوں نے عرض کیا اے شیخ اب آپ بوڑھے ہو گئے کمزور ہو گئے ہیں ان میں سے کچھ نوافل چھوڑ دیجئے۔اُنہوں نے فرمایا یہی تو وہ چیزیں ہیں جن کو ابتدا میں کر کے اِس مرتبہ کو پایا ہے اب یہ نا ممکن ہے کہ اِس انتہا پر پہنچ کر اِن سے دستبردار ہو جاوں۔
Subscribe to:
Comments (Atom)